اسلام آباد (نیوڈیسک)سولر پینل وہ آلہ ہے جو اپنی سطح پر پڑنے والی شمسی توانائی یعنی دھوپ کو بجلی میں تبدیل کردیتا ہے۔ متبادل ذرایع سے توانائی کے حصول، بہ الفاظ دیگر بجلی پیدا کرنے کے لیے سب سے زیادہ توجہ سولرپینلز پردی جارہی ہے۔ سولر پینلز چند برسوں کے دوران پاکستان جیسے ترقی پذیرممالک کے دورافتادہ اورپسماندہ علاقوں میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔
اگربہت سارے سولر پینلز کو ایک ساتھ نصب کردیا جائے تو اسے سولر فارم کہا جاسکتا ہے۔ سولر فارم دھوپ سے بڑی مقدارمیں بجلی حاصل کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ سولر پینلز کی طرح سولر فارم کا بنانا بھی عام ہوچکا ہے۔ عام طورپرحکومتیں اور بڑے بڑے ادارے اور کمپنیاں ایسے فارمز بناتی ہیں۔
وسیع قطعہ اراضی پر سیکڑوں ہزاروں سولر پینلز نصب ہوں تو اسے سولر فارم کہا جاسکتا ہے۔ زمین پر ان سے توانائی حاصل کرنے کے بعد ماہرین نے سطحِ آب پر بھی سولر فارم بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان تیرتے ہوئے سولر فارمز کا مقصد پینلز کا رخ تبدیل کرتے ہوئے انھیں زیادہ سے زیادہ وقت سورج کے ر±خ پر رکھنا ہوتا ہے تاکہ سورج کی آخری کرن تک بجلی پیدا کرنے کے کام ا?سکے۔ دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا سولر فارم گذشتہ دنوں برطانیہ میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ یہ فارم دریائے ٹیمز پر تعمیر کردہ ایک ذخیرہ? آب پر بنایا گیا ہے۔ 57,000 مربع میٹر پر محیط وسیع ترین سولر فارم میں 23046 پینلز لگائے گئے ہیں۔ ہیتھرو ایئرپورٹ سے پرواز کرتے ہی اس سولر فارم کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔
سولر فارم کو لائٹ سورس نامی کمپنی نے تعمیر کیا ہے اور اس پر 60 لاکھ پاو¿نڈ کی لاگت آئی ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ پیداواری گنجائش 6.3 میگا واٹ ہے جو 1800 گھروں کی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ تین ماہ کی قلیل مدت میں تیار ہونے والا سولر فارم ارضی ماحول کے لیے نقصان دہ نہیں کیوں کہ یہ ذخیرہ آب پر بنایا گیا ہے۔ خشکی پر سولر فارم بنانے کے لیے وسیع قطعہ? اراضی درکار ہوتی ہے جس کے لیے ماہرین زرعی زمین کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس طرح یہ زمین فصل پیدا کرنے سے محروم ہوجاتی ہے۔ خشکی پر بنائے گئے سولر فارمز کی اوپری فضا انتہائی گرم ہوتی ہے جو پرندوں کے لیے مہلک ثابت ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں تیرتے ہوئے سولر فارم سے پرندوں کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ سطح آب سے اٹھتے ہوئے بخارات فضا کو گرم نہیں ہونے دیتے۔ اس سولر فارم سے حاصل ہونے والی بجلی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کو فراہم کی جائے گی۔
سطح آب پر بنائے گئے سولر فارمز کی افادیت کے پیش نظر اب کئی ممالک اس نوع کے فارمز تعمیر کررہے ہیں۔ امریکا کے علاوہ جاپان بھی اس سمت میں پیش قدمی کررہا ہے۔ درحقیقت جاپان، برطانیہ کو سب سے بڑے فلوٹنگ سولر فارم کے حامل ملک کے اعزاز سے محروم کرنے پر کمربستہ ہے۔ جاپان کے یاماکوراڈیم پر سولر فارم تعمیر کرنے پر کام جاری ہے جو 180000 مربع میٹر پر محیط ہوگا۔ اس سولر فارم کی تعمیر 2018 میں مکمل ہوگی۔ 2011 میں فوکوشیما کے ایٹمی حادثے کے بعد جاپان شمسی توانائی سے بجلی کے حصول پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔
اب سولر پینل بالکل جگہ نہیں گھیریں گے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
بجلی صارفین ہوشیار! شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول آگیا
-
لائیو شو میں غیر اخلاقی حرکت پر فضا علی کا ردعمل سامنے آگیا
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
-
درجنوں سیاسی خاندان تحریک انصاف میں شامل
-
گریٹ گیم
-
اختیارات کے ناجائز استعمال اور خاتون سے ناجائز تعلقات قائم کرنے پر ڈی ایس پی نوکری سے فارغ
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
-
پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
-
معروف ریسٹورنٹ سے مضرِ صحت گوشت برآمد ، سیل کر دیا گیا
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری



















































