ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

موبائل فون یا انٹرنیٹ پر مختصر پیغامات کیلئے لڑکیوں میں جنونی رویہ پایا جاتا ہے ،ماہر نفسیات

datetime 12  اکتوبر‬‮  2015 |

لندن(این این آئی)ماہر نفسیات نے انکشاف کیا کہ موبائل فون یا انٹرنیٹ پر بھیجے یا وصول کیے جانے والے مختصر پیغامات کے لیے لڑکیوں میں جنونی رویہ پایا جاتا ہے جو ان کی تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے لیکن ٹیکسٹ پیغامات کا لڑکوں کے تعلیمی نتائج پر منفی اثر نہیں تھا۔فلسفہ سائنس کے ایک نئے مطالعے کے مطابق اس دور کے نوجوانوں کو اگر ٹیکسٹنگ آبادی کہا جائے تو غلط نا ہو گا، جن کا پسندیدہ مشغلہ موبائل فون پرانگوٹھوں کی مدد سے دوستوں کو مختصر پیغامات یا ٹیکسٹ میسج لکھنا ہے۔سائنسی جریدہ ‘امریکن سائیکلوجیکل ایسوسی ایشن’ کے مطالعہ سے ظاہر ہوا کہ اوسط نوجوان ایک دن میں اندازاً 167 پیغامات بھیجتے اور وصول کرتے ہیں اور یہ نوجوانوں کے لیے پیغامات بھیجنے کا ترجیحی طریقہ ہے۔مطالعہ کے سربراہ محقق کیلی لینڈ مین نے کہا کہ نتائج سے پتا چلتا ہے کہ مختصر پیغامات کی تعداد کے مقابلے میں ٹیکسٹ پیغامات کے لیے جنونی رویہ زیادہ بڑی پریشانی ہے۔ڈیلاوئیر کمیونٹی کالج سے منسلک پروفیسر کیلی لینڈ مین کے مطابق ٹیکسٹ پیغامات کی طرف جذباتی رویہ ٹیکسٹنگ کی تعداد کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے، اس میں ایسا ہوتا ہے کہ پیغامات میں کمی کرنے کی کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں، ٹیکسٹنگ کے رویہ کے بارے میں دوسروں کے سوال پر دفاعی رویہ اختیار کر لیا جاتا ہے اور اگر کسی وجہ سے ٹیکسٹ بھیجنا ممکن نہیں ہو تو شدید غصہ آتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگرچہ لڑکیوں اور لڑکوں میں ٹیکسٹ پیغامات کی شرح ایک جیسی تھی تاہم ان کے متن کی وجوہات مختلف تھیں۔ مطالعہ کے مطابق لڑکوں نے معلومات کے اشتراک کے لیے مختصر پیغامات کا استعمال کیا تھا جبکہ لڑکیوں نے سماجی تعلقات نبھانے اور دوستوں کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے کے لیے ٹیکسٹ پیغامات کا استعمال کیا، جس سے محققین نے نتیجہ نکالا کہ لڑکیوں میں ٹیکسٹ پیغامات کے حوالے سے جنونی رویے کا امکان تھا جو انھیں بار بار فون چیک کرنے کی طرف مجبور کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ لڑکیاں عمر کے اس دور میں سیاق و سباق سے ہٹ کر سوچتی ہیں اور دوسروں کے ساتھ زیادہ جذباتی طور پر منسلک ہو جاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لڑکیوں کے بھیجے گئے اور موصولہ پیغامات کی نوعیت زیادہ پریشان کن تھی۔تحقیق کاروں کے مطابق 60 فیصد نوجوان ہر روز دوستوں یا عزیز و اقارب کو ٹیکسٹ پیغامات بھیجتے ہیں جبکہ ہر پانچ میں سے دو یا 40 فیصد نوجوان اپنے موبائل فون کو وائس کال کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ایک مشاہدے کے لیے تحقیق کاروں کی ٹیم نے آٹھویں جماعت سے گیارہویں جماعت کی211 لڑکیوں اور 192 لڑکوں کو شامل کیا اور ‘کمپلسیو ٹیکسٹنگ اسکیل’ کی مدد سے شرکاءمیں ٹیکسٹ پیغامات کے رویے کی چھان بین کی۔محققین نے کہا کہ جن لڑکیوں نے اسکیل پر زیادہ نمبر لیے تھے۔ ان کی تعلیمی کارکردگی خراب تھی ان کے گریڈ اچھے نہیں تھے وہ اسکول میں اچھی طرح سے ایڈجسٹ نہیں تھیں۔ لیکن یہ بات لڑکوں کے لیے درست ثابت نہیں ہوئی۔اس سے قبل ایک حالیہ برطانوی مطالعے سے ظاہر ہوا تھا کہ ٹیکسٹ پیغامات کی غیر روایتی زبان ہجے اور گرامر کے استعمال سے نوجوانوں کی انگریزی زبان کی مہارت میں اضافہ ہوتا ہے اور انگریزی میں ان کی املا اور گرامر کے بہتر نتائج نظر آئے تھے۔اسی طرح امریکی ماہرین کی ایک تحقیق سے پتا چلا تھا کہ اسکول کی پڑھائی کے دوران ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے والے بچوں کے امتحانی نتائج اچھے نہیں ہوتے ہیں تاہم نئی تحقیق کا نتیجہ بتاتا ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں میں ٹیکسٹ پیغامات کے لیے جذباتی رویہ زیادہ مشکلات پیدا کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…