ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

انڈونیشیا ، چوہوں کی ایک نئی نسل دریافت

datetime 7  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک )سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے انڈونیشیا میں چوہوں کی ایک نئی نسل دریافت کی ہے۔دریافت کی گئی نئی نسل کو ’ہایورنومِس ٹیومکی آئی‘ کا نام دیا گیا ہے جو خنزیر جیسی ناک والے چوہوں پر مشتمل ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ’یہ دوسرے چوہوں سے غیر معمولی طور پر مختلف اور منفرد خصوصیات کے حامل ہیں۔‘ان میں سے پانچ چوہوں کو آسٹریلیا، انڈونیشیا اور امریکہ کے سائنسدانوں نے ماہ جنوری کے آغاز میں سلاویسی جزیرے سے دریافت کیا تھا۔وکٹوریا میوزیم کے ممالیہ جانوروں کے مہتمم کیون رو کا کہنا تھا کہ اس نسل کے متعلق ’اس سے پہلے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملتے۔‘
ہم کئی دنوں سے رات رات بھر گھات لگائے بیٹھے رہتے تھے کہ اسی دوران میرا پاو¿ں ایک بالکل نئی قسم کے چوہے سے ٹکرایا۔ میں نے فوری طور پر چلا کر اپنے ساتھیوں کو پ±کارا کیوں کہ میں جانتا تھا کہ یہ ایک نئی نسل ہےکیون رو، وکٹوریا میوزیم کے ممالیہ جانوروں کے مہتمم رو کے مطابق ’ہم اس علاقے کے دوردراز پہاڑوں کے سروے اور ایشیا اور آسٹریلیا میں ارتقائی سیاق وسباق کے متعلق جاننے کے ایک مشن پر تھے۔ ان چوہوں کے متعلق اب کوئی بھی نہیں جانتا اور نہ ہی کسی کو یہ معلوم ہے کہ اس طرح کے چوہے جنگلات میں کس طرح کی زندگی گزارتے تھے۔‘
کیون رو نے کترنے والے جانوروں کے ارتقا کے علم میں مہارت حاصل کر رکھی ہے۔ انھوں نے دیگر سائنس دانوں اور مقامی افراد کے ایک گروہ کے ہمراہ مضافاتی جنگلاتی علاقے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے انڈونیشیا میں چھ ہفتے گزارے۔
انھوں نے خنزیر نما ناک کے حامل چوہوں کی دریافت کے ’دلچسپ لمحات‘ کی یادیں بھی بانٹیں۔انھوں نے بتایا ’ہم کئی دنوں سے رات رات بھر گھات لگائے بیٹھے رہتے تھے کہ اسی دوران میرا پاو¿ں ایک بالکل نئی قسم کے چوہے سے ٹکرایا۔ میں نے فوری طور پر چلا کر اپنے ساتھیوں کو پ±کارا کیوں کہ میں جانتا تھا کہ یہ ایک نئی نسل ہے۔‘چوہے ’صحت مند، بھرے ہوئے معدوں‘ کے ساتھ لگ بھگ 250 گرام وزن کے دکھائی دیتے تھے۔رو نے مزید بتایا کہ سلاویسی جزیرے سے نئے دریافت کیے جانے والے ممالیہ بھی اِن سے ملتے ج±لتے تھے لیکن ’وہ ایک جیسے نہیں تھے۔گذشتہ سال ہم نے اسی جزیرے سے بحری اور بغیر دانتوں والے چوہے بھی دریافت کیے تھے۔‘انھوں نے بتایا کہ ’ظاہر ہے کہ ان کے خنزیر سے مشابہ نتھنے بہت منفرد ہیں۔ لیکن ان میں اپنی جسامت کے چوہوں کے لحاظ سے چہرے کی لمبائی، لمبے کان اور نچلے جبڑے پر لمبے لمبے دانت بھی منفرد ہیں جو زیادہ تر چوہوں کی ایک خاص قسم شرو میں ہی پائے جاتے ہیں۔ ان کے لمبے پشمی بال ہمیں صرف آسٹریلوی نسل کے ممالیہ میں ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔‘
ان چوہوں کو حنوط کرنے کے بعد انڈونیشیا کے ایک میوزیم میں رکھ دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…