ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

کیا آپ بھی اپنے 3G/4G انٹرنیٹ کنکشن سے ناخوش ہیں؟ بڑی وجہ سامنے آگئی

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان میں تھری جی اور فورجی ٹیکنالوجی تو متعارف کروا دی گئی ہے لیکن اکثر موبائل فون صارفین اب بھی انٹرنیٹ کی سپیڈ کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ ایک ویب سائٹ Propakistani.comکے ایک سروے کے مطابق ملک کے 75فیصد انٹرنیٹ صارفین تھری جی اور فورجی آنے کے بعد بھی انٹرنیٹ کی کم رفتار پر نالاں ہیں۔ تھری اور فور جی سپیکٹرم آنے کے بعد ملک بھر کے انٹرنیٹ صارفین تیزرفتار انٹرنیٹ کا لطف اٹھانے کے لیے وائرلیس براڈ بینڈ پر منتقل ہو گئے۔ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جدید سپیکٹرم آنے کے پہلے سال کے دوران ڈیڑھ کروڑ سے زائد صارفین تھری اور فور جی سپیکٹرم سے منسلک ہوئے۔صارفین کی اتنی بڑی تعداد کا ہونا بھی انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی کی بہت بڑی وجہ ہے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیلام کیے جانے والے تھری جی سپیکٹرم کا سائز ہی اس قدر چھوٹا ہے کہ وہ اس قدر صارفین کو بہتر سپیڈ دے ہی نہیں سکتا۔ جہاں دیگر ممالک میں 40میگاہرٹز فی آپریٹر کی تھری جی سروس فراہم کی جا رہی ہے وہیں پاکستان میں محض 5میگا ہرٹز اور 10میگا ہرٹز پر مبنی سروس کے لائسنس دیئے گئے۔ٹیلی نار کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مائیکل فولے نے ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کمپنی کو 5میگاہرٹز کا لائسنس ملا۔ اب ہمیں اس دشواری کا سامنا ہے کہ صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور سپیکٹرم کا سائز بہت چھوٹا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے صارفین کو ان کی متوقع سپیڈ فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ یوفون کو بھی یہی دشواری پیش آ رہی ہے کیونکہ اس نے بھی 5میگاہرٹز کا لائسنس ہی حاصل کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…