جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ڈرون بھی اب انسانوں کی جان بچائیں گے

datetime 16  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )ڈرون کا نام پاکستان میں نفرت اور خوف کی علامت ہے جس سے امریکا وطن عزیز کی جغرافیائی حدود پامال کرتا ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی کے حامل ان طیاروں سے آفت زدہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کی نشاندہی، دواو¿ں اور خون کی فراہمی کےعلاوہ خوراک بھی پہنچائی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اسے کئی تعمیری مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔
مچھر پکڑنے والے ڈرون
دنیا میں کمپیوٹرسافٹ ویئر بنانے والی سب سے بڑی کمپنی مائیکروسوفٹ نے ”پروجیکٹ پریمونیشن“ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس میں ڈرون فضا میں پرواز کرتے ہوئے مچھر پکڑنے اور ہوا میں موجود جراثیم کا تجزیہ کرتے ہوئے کسی وبا یا بیماری کے پھوٹنے سے قبل ہی ڈاکٹروں کو خبردار کرنے کا کام کریں گے۔ ان ڈرونز میں موجود لیبارٹری مچھروں کا تجزیہ کرکے بتاسکے گی کہ ملیریا اور ڈینگی کی نئی وبا کب اور کیسے پھیل سکتی ہے۔

0-operation-1434361578
قدرتی آفات اور ڈرون
ڈرون طیارے زلزلے اور سیلابی صورت حال میں متاثرہ علاقوں میں فوری دوائیں پہنچانے کا کام بہت سہولت اور تیزی سے کرسکتےہیں۔ تباہ شدہ علاقوں میں کسی فیلڈ کیمپ میں خون کی فوری ترسیل بھی ڈرون کے ذریعے ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ ہالینڈ کی ڈیلفٹ یونیورسٹی میں انجینیئروں نے ایمبولینس ڈرون تیار کیا ہے جو خصوصی طور پر دل کے دوروں سے بچانے والے خودکار ڈی فبریلیٹرز کو 20 مںٹ سے بھی کم وقفے میں ضرورت کی جگہ پہنچاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انتہائی ضروری طبی آلات بھی لے جاسکتا ہے۔ ڈرون 7 میل کے دائرے میں پہنچ کر یہ آلات فراہم کرتا ہے اور اس میں ایک باتصویر معلوماتی کتابچہ بھی موجود ہے جسے پڑھ کر عام آدمی بھی ان آلات کو استعمال کرکے کسی کی جان بچاسکتا ہے۔
فضائی ڈسپنسری
سوئزرلینڈ کی ایک کمپنی ’میٹرنیٹ‘ نے اس سال اپنے پہلے ڈرون کا کامیاب تجربہ کیا جس کے ذریعے 20 کلوگرام وزنی طبی سامان 12 میل کے فاصلے تک بہت آسانی سے پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس میں دوائیں، خوراک اور ابتدائی طبی آلات موجود ہیں جسے پاپوا نیوگنی اور ہیٹی کے دوردراز اور مشکل علاقوں میں لوگوں تک بھیجنے کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اس ڈرون کو موبائل ایپ کے ذریعے بھی اڑایا اور کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ وزن لےجانے کی غیرمعمولی صلاحیت کی وجہ سے اسے فضا میں اڑنے والی ڈسپنسری بھی کہا جارہا اور یہ ٹیکنالوجی کمرشل بنیادوں پر دستیاب ہے۔ ذرا پاکستان میں زلزلے، سیلاب اور دیگرآفات کا تصور کیجئے اور ان ڈرونز کو دیکھیے کہ ہماری کتنی مشکلات ان ایجادات سے حل ہوسکتی ہیں۔

0-medweb-1434361848



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…