جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں اب کوڑا کرکٹ سے بدبو نہیں بجلی پیدا ہو گی

datetime 11  اپریل‬‮  2015 |

پشاور(نیوز ڈیسک)پاکستان میں اب کوڑا کرکٹ گندگی اور بدبو پیدا کرکے لوگوں کی اذیت کا باعث نہیں بنے گا بلکہ اب اسی ناکارہ کوڑے کو استعمال میں لاکر بجلی پیدا کی جائے گی۔خیبر پختونخوا کے دارلحکومت پشاور میں قائم ایک نجی یونیورسٹی (CECOS) اور ڈائریکٹریٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے باہمی اشتراک سے اسٹیم پاور پلانٹ کے ذریعے فاضل ٹھوس کوڑے سے بجلی تیار کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ 33 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے اس پلانٹ سے ابتدائی طور پر15 کلو واٹ تک بجلی حاصل کی جاسکتی ہے، جس سے قریب 625 انرجی سیورز روشن ہوسکتے ہیں۔ 33 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے اس پلانٹ سے ابتدائی طور پر15 کلو واٹ تک بجلی حاصل کی جاسکتی ہے
33 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے اس پلانٹ سے ابتدائی طور پر15 کلو واٹ تک بجلی حاصل کی جاسکتی ہے
حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم کردہ اس چھوٹے اور ماحول دوست پاور پلانٹ کے بارے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ریاض محمد کا کہنا تھا کہ اس پلانٹ کی مدد سے روزانہ چوبیس گھنٹوں میں تقریبا 72 ٹن فاضل کچرے کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے، جس سے ناصرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی، بلکہ بجلی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ڈاکٹر ریاض محمد کہتے ہیں، ”اگر ہم پشاور کی بات کریں تو ایک دن میں قریب 900 گھرانوں سے اتنی مقدار میں کوڑا کرکٹ حاصل کیا جاسکتا ہے، جس کو جلا کراوسطا اکیس(21) گھرانوں کی بجلی کی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے، جس وہ ایک پنکھا اور دو ٹیوب لائٹ آسانی کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں۔‘‘تجرباتی طور پر بنائے گئے اس پاور پلانٹ کے بارے میں ڈاکٹر ریاض مزید کہتے ہیں کہ اس پلانٹ میں کچرے کو ایندھن کے طور پر جلایا جاتا ہے، جس سے بھاپ حاصل کی جاتی ہے اور پر اسی بھاپ یا سٹیم کو بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔سیکریٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی خیبر پختونخوا فرح حامد خان کا سولَڈ ویسٹ پاور پلانٹ کے بارے میں کہنا ہے، ’’یہ ایک بہت ہی اچھی کاوش ہے، اس مد میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس پاور پلانٹ سے بڑی سطح پر فائدہ حاصل کریں۔‘‘فرح حامد مزید کہتی ہیں کہ یہ ان کے ادارے اور CECOS یونیورسٹی کا مشترکہ منصوبہ تھا، جو ایک سال کی مدت میں کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔ وہ سمجھتی ہے کہ اس قسم کے مزید پراجیکٹس پر کام ہونے چاہیں تاکہ ناصرف پشاور بلکہ ملک بھر میں موجود کوڑا کرکٹ کے انبار کو بہتر طور پر ٹھکانے لگایا جاسکے۔ڈاکٹر ریاض محمد کے بقول گو کہ یہ ایک چھوٹا پلانٹ ہے اس لیے اس وقت اس پلانٹ سے پیدا ہونے والی بجلی پر فی یونٹ خرچہ تقریبا 30 روپے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس طرح کے پاور پلانٹ صنعتی سطح بنائے جائیں تو فی یونٹ خرچ 15 روپے تک لایا جا سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق وسیع پیمانے پر اس قسم کے منصوبوں سے ناصرف ملک کو صاف ستھرا رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ دور حاضر میں پاکستان کو درپیش بجلی کی سنگین بحران میں کمی بھی لائی جاسکتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…