جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

روتے بچوں سے نمٹنے کے لیے سائنس کی ضرورت نہیں

datetime 10  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) چھوٹے بچوں کو سمجھانا یا سنبھالنا بظاہر کافی مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ انہیں یہ سمجھانا کہ وہ جس چیز کیلئے ضد کررہے ہیں، ان کیلئے نقصان دہ ہے بہت مشکل ہے تاہم اگر اس معاملے میں تھوڑی سے ذہانت کا مظاہرہ کیا جائے تو بچوں کو آسانی سے سمجھایا جاسکتا ہے۔ یہ مسئلہ ان خواتین کیلئے زیادہ پریشان کن ہوتا ہے جنہوں نے اپنے ماحول میں چھوٹے بچوں کوپرورش پاتے نہیں دیکھا ہوتا ہے، ایسے میں جب وہ خود پہلی بار ماں بنتی ہیں تو ان کیلئے بچے کو سمجھانا بے حد مشکل ہوتا ہے تاہم اگر کسی بھی مسئلے کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے کہ بچہ اس بارے میں کیا سوچ رہا ہے، تو صورتحال کو باآسانی قابو میں کیا جاسکتا ہے۔اس حوالے سے کچھ مشورے پیش ہیں جن پر عمل درآمد سے بچوں کے مزاج کو بگڑنے سے پہلے ہی قابو کیا جاسکتا ہے۔
چھوٹے بچوں کے سوچنے کا انداز مختلف ہوتا ہے تاہم ان کے اندر جذبات کم و بیش ویسے ہی ہوتے ہیں جو کہ بڑوں میں ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر ان جذبات کے اظہار کا طریقہ قدرت نے مختلف رکھا ہے یعنی کہ رونا دھونا اور ہنگامہ کرنا۔ اگر آپ کا بچہ کھانے سے پہلے بسکٹ مانگ رہا ہے اور آپ یہ چاہتی ہیں کہ وہ کھانا کھا لے تاکہ اس کی غذائی ضروریات پوری ہوجائیں تو بجائے اس کہ اس امر پر زور دیا جائے کہ وہ بسکٹ نہ کھائے بلکہ کھانا کھائے، اسے یہ کہیں کہ آج کے کھانے میں بسکٹ ہم میٹھے کے طور پر کھائیں گے ، اس لئے جو بچہ کھانا کھائے گا، اسے ہی یہ بسکٹ بھی ملیں گے۔
بچے اگر کھیل کود چھوڑ کے سونے کیلئے تیار نہیں ہیں تو اس کیلئے بھی آپ ان کے کھیل میں ہی کوئی ایسا نیا منظر تخلیق کرسکتی ہیں جس میں بچے کے کھلونے بھی شامل ہوں اور بچے کو سونے پر بھی مجبور کیا جاسکے۔ جیسا کہ اس کے پسندیدہ کھلونے کو دکھا کے کہیں کہ اسے مرمت کی ضرورت ہے ، اور یہ اسی وقت ہی مکینک کی دوکان پر جاسکتا ہے جب آپ اس سے کھیلنا چھوڑ کے سوجائیں۔
بچوں کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں تصور کرسکیں۔ مراد یہ ہے کہ اگر بچے کو کسی کام میں مزہ آرہا ہے تو اس کیلئے یہ سوچنا بے حد مشکل ہوتا ہے کہ وہ یہ کام مستقبل میں دوبارہ بھی کرسکتا ہے یا مستقبل میں کسی دوسرے کام میں اسے اس سے زیادہ مزہ بھی آسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب بچوں کو کھیل کود یا کسی کے گھر سے واپسی کا کہا جائے تو انہیں بے حد غصہ آتا ہے،اس کیلئے بچے کو آئندہ مرحلے پر کسی زیادہ مزیدار کام کی ترغیب دیں تو وہ بخوشی اس کام کو چھوڑنے اور آپ کا حکم ماننے پر رضامند ہوجائیں گے اور بنا ضد پکڑے ہی آپکا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔
ہمیشہ یاد رکھیں کہ بچے کے ضد کرنے پر اس کی ضد پوری کرنے سے بچہ مزید ضدی بنتا ہے۔ بچے کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ جب وہ ایسا کرے گا تو اس کی بات مان لی جائے گی، اس لئے ضد کرتے ہوئے بچے کے مطالبہ کو کبھی پورا نہیں کرنا چاہئے۔ اپنے بچے کو روتا ہوئے چھوڑ دینا بہت مشکل ہے، لیکن آپ کا دل پر پتھر رکھ کے انہیں کچھ دیر کیلئے نظر انداز کردینا ہی واحد علاج ہے۔ یہ مت سوچیں کہ بڑے ہونے پر وہ خود ہی ضد چھوڑ دیں گے اس لئے فی الحال ان کی ضد پوری کردی جائے، بچوں کو اگر ضد پوری کروانے کی عادت ہوجائے تو بڑے ہونے پر بھی یہ کسی نہ کسی طور پر عادت باقی رہتی ہے، اس دل پر پتھر رکھ کے بچوں کی ضد کے آگے ہتھیار پھینکنا چھوڑ دیں۔بچے کو کنٹرول کرنا سیکھیں نہ کہ بچے کے کنٹرول میں آیا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…