اسلام آباد( نیوزڈ یسک )سائنسدانوں نے سورج کی شدت کا جائزہ لینے کے لیے خلائی مشن کا آغاز کیا ہے جس کے تحت خلائی گاڑیاں ’سولر اوربیٹر‘ اور ’سولر پروب پلس‘ سیارہ عطارد کے مدار میں داخل ہوکر اس کا مشاہدہ کریں گی۔سورج کے اتنے قریب پہنچنے پر ان دونوں خلائی گاڑیوں کے اس حصے پر جو سورج کے رخ پر ہوگا درجہ حرارت کئی سو ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سفر جہنم کا سفر ہوگا۔اطلاعات کے مطابق دونوں مشن بہترین انداز میں اپنا کام کررہے ہیں۔سولر پروب پلس‘ کو لانچ کرنے کے لیے امریکی خلائی ایجنسی نے راکٹ کا انتخاب کر لیا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا راکٹ ‘ڈیلٹا فورتھ ہیوی’ اس چھ سو دس کلو گرام وزنی سیارے کو سنہ 2018 کے آخر میں سورج کے قریب لے جائے گا۔فضائی سازوسامان بنانے والی یورپی کمپنی ’ائیر بس ڈیفنس اینڈ سپیس‘ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سولر اوربٹر کا ایک تھرمل ماڈل تیار کیا ہے۔حالیہ برسوں میں کئی شمسی مشن کے تجربے کیے گئے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر سیارے اپنا کام کرنے کے لیے سورج کے اتنے قریب کبھی نہیں گئے۔سولر اوربیٹر اور سولر پروب ایک طرح سے آگ کے اندر جائیں گے اور سورج کا بہت قریب سے جائزہ لیں گے۔سولر پروب سورج سے محض ساٹھ لاکھ کلومیٹر کی دوری پر ہوگا اور اس کے مدار کے حصوں میں دو سو کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار پر چکر لگائے گا۔مختلف مرحلوں پر مختلف حکمت عملیوں کی ضرورت ہوگی۔ سولر پروب سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوکر سولر اوربیٹر میں دوربین لگائی جا سکتی ہے، لیکن وہ جو تصاویر لے گا وہ بے حد حیرت انگیز ہوں گی کیونکہ ان میں سورج کے نقوش کو اتنی باریکی سے دکھایا جائے گا جو پہلے کبھی نہیں کیا گیا ہے۔جس وقت یہ خلائی گاڑی سورج کے قریب چکر لگا رہی ہوگی اس وقت اس کے باہر درجہ حرارت 13 سو ڈگری سینٹی گریڈ ہوگا لہذا اس لیے اس گاڑی کے اندر کسی نہایت تنگ سوراخ تک کی گنجائش نہیں ہے۔تو پھر ایسے میں غلطی کہاں ہوسکتی ہے؟اگر پورے وقت یہ خلائی گاڑی براہ راست سورج کی طرف رخ نہیں کیے ہوئے ہے اور تپش سے بچانے والی چھتری اس کو سایہ دینا بند کردیتی ہے تو گاڑی کے چاروں طرف تپش بڑھ سکتی ہے جس سے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔سولر اوربیٹر منصوبے کے مینیجر فلیپی لیتزکائن کا کہنا ہے کہ |سولر اوربیٹر کے سامنے لگی شیلڈ پر درجہ حرارت چھ سو ڈگری سے زیادہ ہوسکتا ہے لیکن اس کے پچھلے حصے میں درجہ حرارت صرف ساٹھ ڈگری ہی ہوسکتا ہے۔‘ان دونوں خلائی مشنز پر ٹیکس دینے والوں کے ڈھائی ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں اور امریکی مشن یورپی مشن کی بنسبت دوگنا مہنگا ہے۔اگرچہ لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ سورج کے کام کرنے کے طریقے کے بارے میں اہم معلومات زمین پر زندگی کو بہتر کرنے میں مدد فراہم کرے گی تاہم یہ ایک بڑی رقم ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
معروف ٹک ٹاکر وکیل میاں بلال عبداللہ گرفتار
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی



















































