ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

امریکی ڈرون ٹیکنالوجی ’چِت بھی اپنی اور پَٹ بھی‘

datetime 18  فروری‬‮  2015 |

امریکا نے کمرشل ڈرونز کے علاوہ مسلح ڈرون طیاروں کو حلیف ممالک کو برآمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران دیگر ممالک کے ساتھ مل کر متنازعہ ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق عالمی معیارات مقرر کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ امریکا نے حلیف ملکوں کو جنگ میں استعمال ہونے والے ڈرون بیچنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل 17 فروری کو واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میزائلوں سے لیس بغیر پائلٹ کے یہ طیارے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال کرنے کے لیے دیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں طویل جانچ پڑتال کے بعد نئے رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ڈرون خریدنے والے ملکوں کو ڈرونز کے استعمال کے حوالے سے مخصوص قواعد و ضوابط کا پابند بننا پڑے گا مثلاً اُنہیں یہ ڈرون ناجائز طور پر اپنے ہی عوام کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اُن ممالک کے نام نہیں بتائے گئے، جنہیں یہ ٹیکنالوجی دی جائے گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی نشانہ بنتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس طرح ڈرون طیاروں اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کام کرنے والی امریکی کمپنیوں کی برآمدات میں اضافہ ہو گا اور ڈرونز کی عالمی منڈی میں فروخت بھی بڑھے گی۔ واضح رہے کہ امریکا ڈرون ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں سب سے آگے ہے اور متعدد ممالک میں جن میں پاکستان، افغانستان، عراق اور یمن شامل ہیں، دہشت گردوں کے خلاف ڈرون طیارے استعمال کر رہا ہے۔ اس سے قبل بغیر پائلٹ کے یہ طیارے بنانے والی بڑی بڑی کمپنیاں واشنگٹن حکام سے اس ٹیکنالوجی کو برآمد کرنے کے حوالے سے بنائے گئے قوانین میں نرمی کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ ان کمپنیوں کو اسرائیل اور بین الاقوامی سطح پر ابھرنے والے دیگر اداروں کے مقابلے میں نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ دوسری جانب چین کا بھی ڈرونز ٹیکنالوجی برآمد کرنے کا اپنا ایک نظام ہے۔ چین نو ممالک کو ڈرون برآمد کرتا ہے اور ان میں پاکستان، مصر اور متحدہ عرب امارت شامل ہیں۔ چینی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اس سلسلے میں سعودی عرب اور الجزائر سے بھی بات چیت جاری ہے۔ برطانیہ ابھی تک امریکی مسلح ڈرونز استعمال کرنے والا واحد ملک جبکہ فرانس اور اٹلی صرف نگرانی کے لیے اس امریکی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ نئی امریکی پالیسی کے اعلان سے قبل ہی واشنگٹن حکومت نے جنرل آٹومکس کو اجازت دی تھی کہ وہ بھارتی منڈی کے لیے ’پریڈیٹر ایکس پی‘ نامی ڈرون تیار کر سکتا ہے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…