جمعرات‬‮ ، 15 اکتوبر‬‮ 2026 

صرف 48 گھنٹوں کے اندر گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے خیبرپختونخوا پولیس کیلیے تاریخی ریلیف پیکج کا اعلان

datetime 15  اکتوبر‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پولیس اہلکاروں، دورانِ ڈیوٹی جانیں قربان کرنے والے شہداء اور ان کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد اور دیگر سہولیات بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ اقدامات میں شہداء کے معاوضوں میں اضافہ، رہائشی معاونت، بچوں کی تعلیم اور بیٹیوں کی شادی کے لیے خصوصی مالی مدد شامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق پولیس فورس کی فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے فیصلوں کے تحت مختلف عہدوں کے شہداء کے لواحقین کو دی جانے والی امدادی رقوم میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں مزید بہتری لانے کے لیے بھی متعلقہ حکام کو اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، تاکہ صوبے کی پولیس کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر تنخواہیں مل سکیں۔

شہداء کے معاوضوں میں مجوزہ اضافہ

اعلان کردہ تفصیلات کے مطابق مختلف عہدوں کے لیے شہداء پیکج میں درج ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں:

کانسٹیبل سے انسپکٹر تک: معاوضہ تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ 70 لاکھ روپے کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

ڈی ایس پی اور اے ایس پی: رقم 1 کروڑ 60 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔

گریڈ 18 اور 19 کے افسران: معاوضہ 2 کروڑ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 3 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔

گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران: امدادی رقم 2 کروڑ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔

پلاٹ کے بجائے مالی معاونت

شہداء کے اہل خانہ کو رہائش کے لیے پلاٹ فراہم کرنے کے بجائے براہِ راست مالی امداد دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے تحت کانسٹیبل سے انسپکٹر تک کے اہلکاروں کے ورثاء کو 1 کروڑ 80 لاکھ روپے، ڈی ایس پی اور اے ایس پی کے خاندانوں کو 2 کروڑ 50 لاکھ روپے، گریڈ 18 اور 19 کے افسران کے لواحقین کو 3 کروڑ 50 لاکھ روپے جبکہ گریڈ 20 یا اس سے اعلیٰ عہدوں کے شہداء کے خاندانوں کو 7 کروڑ روپے دینے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

بیٹیوں کی شادی اور بچوں کی تعلیم کے لیے سہولتیں

اعلان کردہ اقدامات کے مطابق شہداء کی بیٹیوں کی شادی کے موقع پر 10 لاکھ روپے بطور خصوصی مالی معاونت فراہم کیے جائیں گے۔ شہداء کے بچوں کی تعلیم کے لیے بھی امدادی سہولتیں متعارف کرانے کا منصوبہ شامل ہے۔

مزید برآں، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کے تحت مختلف کمپنیوں اور بینکوں کے تعاون سے ایک مربوط نظام تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ پولیس شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اضافی وسائل حاصل کیے جاسکیں۔

پولیس میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کی ہدایت

پولیس فورس میں خالی عہدوں کو پُر کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اہلکاروں پر کام کا بوجھ کم کرنا اور عوام کی حفاظت کے لیے مطلوبہ افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔

اعلان کے مطابق پولیس شہداء کے خاندانوں کی معاونت کو اہم ذمہ داری قرار دیا گیا ہے، جبکہ اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے لیے مالی تحفظ اور فلاحی سہولتوں میں بہتری لانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔



کالم



 عمران خان بھٹو


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…