مری (نیوز ڈیسک)مری کے علاقے سائن روڈ مسیاڑی کے قریب نجی اسکول کی وین حادثے کا شکار ہوکر کھائی میں جاگری، جس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ حادثے کے نتیجے میں وین میں سوار 11 بچے جھلس کر زخمی ہوگئے۔
ڈی پی او مری رضا تنویر کے مطابق حادثے کا شکار وین میں دو نجی اسکولوں کے طلبہ موجود تھے۔ زخمی بچوں میں سے چار کی حالت زیادہ متاثر ہونے کے باعث انہیں علاج کے لیے ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی منتقل کردیا گیا، جبکہ دیگر بچوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال مری پہنچایا گیا۔
پولیس کے مطابق زخمی بچوں میں 8 سالہ ارحم ولد علی نواز تقریباً 38 فیصد جھلسنے کے باعث متاثر ہوا، جبکہ 8 سالہ حسن طالب ولد محمد طالب کے جسم پر تقریباً 26 فیصد جھلسنے کے زخم پائے گئے۔ اسی طرح عائشہ دختر کلیم کے جسم کا تقریباً 42 فیصد حصہ جھلس گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ دیگر بچوں کی حالت فی الحال مستحکم ہے۔ پولیس کے مطابق مجموعی طور پر 8 بچوں میں سے 2 بچے آگ سے محفوظ رہے، جبکہ باقی 6 بچوں کو 10 فیصد سے کم جھلسنے کے زخم آئے ہیں۔
ریسکیو اہلکاروں اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے گاڑی میں لگی آگ پر قابو پالیا، جبکہ حادثے کے مقام پر گاڑی کو ٹھنڈا کرنے کا عمل بھی جاری رکھا گیا۔
بعد ازاں ڈی پی او مری رضا تنویر سپرا نے ڈی ایچ کیو اسپتال مری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثہ وین کے بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا۔ ان کے مطابق وین کے کھائی میں گرنے کے فوراً بعد اس میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں چار بچے 25 فیصد سے زیادہ جھلس گئے۔
ڈی پی او کے مطابق وین میں 12 بچے سوار تھے، جنہیں مختلف علاقوں سے اسکول لے جانے کے لیے پک کیا گیا تھا۔ حادثے کے بعد تمام زخمی بچوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ زیادہ جھلسنے والے بچوں کو مزید علاج کے لیے راولپنڈی منتقل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ معمولی نوعیت کے جھلسنے والے 8 بچوں کا علاج ڈی ایچ کیو اسپتال مری میں جاری ہے۔ ان کے مطابق تقریباً دو ماہ قبل بھی مری میں ایک اسکول وین میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
رضا تنویر سپرا نے کہا کہ حالیہ حادثے کے بعد گاڑیوں کی فٹنس جانچ کا دائرہ مقامی سڑکوں تک بڑھایا جائے گا۔ ان کے مطابق دیہی علاقوں میں چلنے والی گاڑیوں کی فٹنس بھی چیک کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔



















































