منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

18 سال سے کم عمری سے شادی چائلڈ میرج ، ازدواجی زندگی گزارنا رضامندی کے باوجود چائلڈ ابیوز ہوگا

datetime 1  ستمبر‬‮  2026 |

لاہور(این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے کم عمری کی شادی سے متعلق فیصلہ جاری کردیا، جسٹس منور اقبال دوگل نے 11صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا ہے

جس میں کہا گیا کہ 18 سال سے کم عمری سے شادی چائلڈ میرج ہے، کم عمر بچے کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا رضامندی کے باوجود چائلڈ ابیوز ہوگا۔ جسٹس منور اقبال دوگل نے کہا کہ کم عمر لڑکی کی رضامندی اسے بالغ شخص کے ساتھ رہنے کا قانونی حق نہیں دیتی، چائلڈ میرج کے نتیجے میں کم عمر سے ازدواجی تعلق پر 5 سے 7 سال قید ہوسکتی ہے، چائلڈ ابیوز کے جرم پر کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوگا۔فیصلے میں کہا گیا کہ حنا اسلم کی عمر نکاح کے وقت تقریباً 15 سال دو ماہ تھی، نادرا ریکارڈ کے مطابق حنا اسلم کی تاریخ پیدائش یکم مارچ 2011 ہے، حنا اسلم کو مبینہ شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں۔عدالت نے کم عمر لڑکی کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی محفوظ تحویل میں رکھنے کا حکم دیا جب کہ والدین یا مبینہ شوہر کو بچی کی براہ راست تحویل دینے سے بھی عدالت نے گریز کیا۔ عدالت نے بچی کی ملاقات والدین یا مبینہ شوہر سے صرف نگرانی میں کرانے کا حکم دیا اور کہا کہ کم عمری کی شادی کے الزام کی تحقیقات سے پولیس انکار نہیں کرسکتی، اغوا کے مقدمے سے مختلف جرم کی صورت میں الگ ایف آئی آر درج ہوسکتی ہے۔

کم عمری کی شادی اور جعلی نکاح نامے کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا گیا، جسٹس آف پیس قصور کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔تھانہ بی ڈویژن قصور کے ایس ایچ او کو قانون کے مطابق مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ایف آئی آر کا اندراج کسی شخص کو قصوروار قرار دینے کے مترادف نہیں، حنا اسلم کی مستقل تحویل کا فیصلہ گارڈین جج لاہور کرے گا۔عدالت نے کہا کہ چے کی مرضی اہم ہے مگر اس کی فلاح و بہبود سب سے مقدم ہے، پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 نے کم عمری کی شادی سے متعلق قانون تبدیل کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…