جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

شارجہ سے کراچی آنیوالے طیارہ لاپتا،اس میں کون کون سوار تھا؟

datetime 8  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) شارجہ سے کراچی روانہ ہونے والی لاپتا کارگو پرواز کے معاملے پر متعلقہ کمپنی نے اپنا باضابطہ بیان جاری کر دیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق طیارہ معمول کی پرواز پر کراچی آ رہا تھا، تاہم گزشتہ رات 9 بج کر 21 منٹ پر اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے اچانک رابطہ منقطع ہو گیا۔کمپنی کے مطابق طیارے میں عملے کے پانچ ارکان موجود تھے، جن میں کپتان محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر محمد توفیق، انجینئر عارف صدیقی اور محمد حامد شامل ہیں۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ تمام ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے لیے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نجی ایوی ایشن کمپنی کے دفتر کو سیل کر دیا گیا ہے۔ ایک ایئر ٹریفک کنٹرولر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طیارے کے پائلٹ کی جانب سے آخری لمحات میں مے ڈے کال موصول نہیں ہوئی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہنگامی صورتحال اس قدر اچانک پیش آئی کہ مدد طلب کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔

ذرائع کے مطابق متعلقہ طیارہ کچھ عرصہ قبل فنی خرابی کے باعث مرمت کے لیے شارجہ بھیجا گیا تھا، جہاں یہ تقریباً پانچ روز تک موجود رہا۔ مرمت مکمل ہونے کے بعد اسے فیری فلائٹ (بغیر کارگو کے) کراچی واپس لایا جا رہا تھا۔ابتدائی معلومات کے مطابق طیارے کی مرمت شارجہ میں Northern Techniques نامی کمپنی نے کی تھی، جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق پاکستان کے ایک سابق مشیر برائے ہوابازی سے ہے۔پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے ترجمان نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا اور بحیرہ عرب میں طیارے کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔ اس کارروائی میں مختلف قومی ادارے مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ادھر وزیراعظم نے نجی کارگو طیارے کے بحیرہ عرب میں لاپتا ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے عملے کے پانچوں ارکان کے اہل خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سول ایوی ایشن، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کو ہدایت دی ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جائے اور طیارے کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…