جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی، گرج چمک اور بارش کی پیشگوئی

datetime 18  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں تیز ہواؤں، گرج چمک اور بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے متعدد علاقوں میں شام اور رات کے اوقات میں موسم غیر مستحکم رہنے کا امکان ہے، جہاں آندھی کے ساتھ بارش اور گرج چمک متوقع ہے۔ پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، کرک اور بنوں سمیت کئی اضلاع میں تیز بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اسی طرح چترال، دیر، سوات، میران شاہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی بارش اور تیز ہواؤں کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ کوہستان، شانگلہ اور بونیر کے بعض علاقوں میں موسلادھار بارش ہو سکتی ہے۔ مانسہرہ، ایبٹ آباد، بٹگرام اور پاراچنار میں بھی وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کا امکان موجود ہے۔

بلوچستان کے شمال مشرقی علاقوں میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ژوب، زیارت، شیرانی، کوئٹہ، کوہلو، نصیر آباد اور قلعہ سیف اللہ میں بارش متوقع ہے، جبکہ ہرنائی، سبی، بارکھان، خضدار، ڈیرہ بگٹی اور قلعہ عبداللہ کے مختلف مقامات پر بھی بارش ہو سکتی ہے۔

ڈی جی محکمہ موسمیات عرفان ورک کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان، بھکر اور لیہ میں دوپہر کے بعد بارش کا امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے بالائی علاقوں میں آج سے 20 جون تک وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، جہلم، سرگودھا اور منڈی بہاؤالدین بھی اس سسٹم سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

عرفان ورک کے مطابق خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں 20 جون تک شدید بارشوں کا امکان موجود ہے۔ بالخصوص سوات، چترال، دیر، شانگلہ اور کوہستان کے بعض مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جس کے باعث سڑکوں پر آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے شہریوں اور سیاحوں کو مشورہ دیا کہ بارش کے دوران ندی نالوں، دریاؤں اور برساتی گزرگاہوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور حفاظتی اقدامات پر عمل کریں۔

دوسری جانب رحیم یار خان میں آندھی اور شدید بارش نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے۔ امدادی ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے۔

تیز ہواؤں کے باعث کئی علاقوں میں درخت، دیواریں، بجلی کے کھمبے اور سائن بورڈ گر گئے، جس سے مالی نقصان بھی ہوا۔ بجلی کے نظام کو بھی نقصان پہنچا اور متعدد علاقوں میں کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہی۔

میپکو حکام کے مطابق متاثرہ مقامات پر ہنگامی بنیادوں پر مرمتی کام مکمل کرکے بیشتر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔

انتظامیہ اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…