پیر‬‮ ، 20 جولائی‬‮ 2026 

ٹوائلٹ پر لیگی ایم پی اے کے بیٹےکے ساتھ تنازع؛ ڈی پی او کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

datetime 16  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں تعینات گریڈ 18 کے پولیس افسر کامران حامد کو ایک متنازع واقعے کے بعد

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ حکمران جماعت کے ایک مقامی رکنِ صوبائی اسمبلی اور ان کے خاندان سے پیش آنے والی تلخ کلامی کے بعد سامنے آیا، جس کے بعد انکوائری کا آغاز کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب کو ہدایت دی کہ دونوں فریقین کا مؤقف سنا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ تنازع کی اصل وجہ کیا تھی۔ بعد ازاں ہونے والی تحقیقات میں پولیس افسر کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب مسلم لیگ (ن) کے ایک ایم پی اے اپنے بیٹے اور چند شہریوں کے ہمراہ ڈی پی او آفس پہنچے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کے تحت اراکین اسمبلی مقامی مسائل کے حل کے لیے ضلعی پولیس حکام سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔

ملاقات کے دوران ایم پی اے کا بیٹا ایک فون کال سننے کے لیے دفتر کے اندر گیا اور بعد میں ڈی پی او کے ریٹائرنگ روم میں موجود واش روم استعمال کیا۔ اسی دوران ڈی پی او کامران حامد وہاں پہنچے اور انہوں نے بغیر اجازت واش روم استعمال کرنے پر اعتراض اٹھایا۔

ذرائع کے مطابق جواباً نوجوان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایک سرکاری دفتر ہے اور اس میں موجود سہولیات عوامی استعمال کے لیے ہیں۔ اس بات پر دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور ماحول کشیدہ ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب پولیس افسر نے غصے میں نوجوان کو دفتر سے نکل جانے کو کہا۔

بعد ازاں ایم پی اے نے مداخلت کرتے ہوئے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اور اپنے بیٹے کو وہاں سے روانہ ہونے کا مشورہ دیا، تاہم دفتر سے باہر آنے کے بعد اس واقعے پر مختلف حلقوں میں بحث شروع ہوگئی اور سوشل میڈیا پر بھی معاملہ موضوعِ گفتگو بن گیا۔

ذرائع کے مطابق بعد میں یہ مسئلہ مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما سائرہ افضل تارڑ تک پہنچا، جس کے بعد اسے اعلیٰ حکومتی سطح پر اٹھایا گیا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی پولیس افسر کے رویے کے خلاف مہم چلائی گئی۔

رپورٹس کے مطابق ایم پی اے نے اپنے بیٹے کے ہمراہ آئی جی پنجاب سے ملاقات کر کے ڈی پی او کے طرزِ عمل پر اعتراضات پیش کیے۔ جواب میں کامران حامد نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنے ریٹائرنگ روم اور وہاں موجود ذاتی سامان کے باعث اعتراض کیا تھا، تاہم یہ وضاحت حکام کو مطمئن نہ کر سکی۔

تحقیقاتی رپورٹ موصول ہونے کے بعد حکومت نے کامران حامد کو حافظ آباد سے ہٹا کر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی میں تعینات کر دیا، جبکہ ان کی جگہ نئے افسر کی تعیناتی کا عمل شروع کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان کا حل


آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…