جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

سر کاری حج2027ء کا ریٹ 15لاکھ روپےہو گیا

datetime 12  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سعودی وزارت الحج و عمرہ کی جانب سے حج 2027 کے انتظامات میں مشاعر کے لیے ڈی کیٹگری ختم کرنے کے فیصلے کے بعد

پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور کے لیے نئی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارتِ مذہبی امور گزشتہ کئی برسوں سے سرکاری حج اسکیم کے تحت 42 روزہ لانگ اور 25 روزہ شارٹ حج پروگرام ڈی کیٹگری میں چلاتی رہی ہے۔ کم لاگت کی وجہ سے یہی کیٹگری عوام میں زیادہ مقبول سمجھی جاتی تھی، کیونکہ تقریباً 11 سے 12 لاکھ روپے کے حج پیکیج اسی زمرے میں ممکن تھا۔سعودی حکام کی جانب سے نئی پالیسی اور ٹائم لائن جاری ہونے کے بعد اب کم لاگت والے حج پیکیج کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ڈی کیٹگری کے خاتمے کے بعد سی کیٹگری میں حج اخراجات 15 لاکھ روپے سے کم رہنے کا امکان نہیں، جبکہ بی اور اے کیٹگری کے پیکیجز 20 لاکھ روپے سے زائد تک پہنچ سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ مذہبی امور ہر سال حج آپریشن کے دوران مکہ، مدینہ اور جدہ میں موجود حج مشن کے وسائل کے ساتھ تقریباً 1600 معاونین کی خدمات بھی استعمال کرتی رہی ہے، جن کا بڑا حصہ ڈی کیٹگری کے انتظامات سے منسلک تھا۔

نئی پالیسی کے بعد وزارت کو اپنے آئندہ لائحہ عمل کے تعین میں مشکلات کا سامنا ہے۔یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ پاکستانی حج مشن نے سعودی حکام سے درخواست کی ہے کہ ڈی کیٹگری کو برقرار رکھنے پر غور کیا جائے تاکہ کم آمدنی والے افراد کے لیے حج کی سہولت بدستور دستیاب رہ سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…