بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کی تصاویر والی پتنگیں سامنے آگئیں‘ حکومت نے پابندی عائد کردی

datetime 27  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بسنت کے موقع پر اشتعال انگیزی اور امنِ عامہ میں خلل کو روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، کسی بھی شخصیت کی تصویر، سیاسی جماعتوں کے نشانات یا کسی ملک کے جھنڈے کی عکاسی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔احکامات کے تحت آئندہ 30 روز کے لیے مذہبی یا سیاسی علامات والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال ممنوع ہوگا۔ تاہم بسنت کے دوران سادہ، بغیر تصویر، یک رنگی یا کثیر رنگی پتنگیں اڑانے کی اجازت دی گئی ہے۔انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ خلافِ قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی، فروخت یا استعمال قابلِ سزا جرم تصور کیا جائے گا۔

خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بعض عناصر بسنت کے موقع پر مذہبی یا سیاسی علامات کے ذریعے اشتعال پھیلانے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس کے پیشِ نظر یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔دفعہ 144 کے تحت جاری کردہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت پنجاب نے لاہور میں 6 سے 8 فروری تک مشروط اور محفوظ بسنت منانے کی اجازت دی ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر لاہور نے پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت بسنت 2026 سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کے مطابق حکومت نے بسنت کو ایک تفریحی تہوار کے طور پر محدود اجازت دی ہے، تاہم کسی بھی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

ان پابندیوں کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا اور عوام کے مذہبی جذبات کا احترام یقینی بنانا ہے۔پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے مطابق دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے۔ خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، ترسیل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔قانون کے تحت مقررہ تاریخوں سے پہلے پتنگ بازی کرنے پر پانچ سال تک قید اور بیس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو سات سال تک قید اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…