جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

گھروں، دکانوں کے باہر یا سڑکوں پر کوڑا پھینکنے پر جرمانے کئے جائیں گے

datetime 13  دسمبر‬‮  2025 |

لاہور (این این آئی)وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کے دوران صفائی فیس کی وصولی کے جاری عمل اور گندگی پھیلانے پر سزائوں کے میکانزم پر غور کیا گیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور سپیشل سیکرٹری ارشد بیگ نے بھی شرکت کی جبکہ ڈائریکٹر جنرل سُتھرا پنجاب اتھارٹی بابر صاحب دین نے اجلاس کو بریفنگ دی۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ دنیا کے صفائی کے سب سے بڑے نظام کو مستحکم بنانا ضروری ہے۔ صفائی کی معیاری خدمات کے عوض معمولی فیس وصول کی جا رہی ہے۔ دیہات میں کم سے کم ماہانہ فیس 200 اور شہروں میں 300 روپے رکھی گئی ہے تاہم کمرشل یونٹس کی فیس کی شرح الگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد علاقوں میں صفائی فیس کے بلز کا اجرأ کیا جا چکا ہے۔ شہریوں کی جانب سے صفائی فیس کی ادائیگی کی شرح حوصلہ افزأ ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ صفائی فیس کی وصولی مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے ہوگی۔

آئوٹ سورس ماڈل کی کامیابی میں سب سے زیادہ کردار عوام کا ہے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ صحتمند معاشرے کے قیام کے لئے ہم سب کو آگے آنا چاہیے۔ وزیر بلدیات نے خبردار کیا کہ گھروں، دکانوں کے باہر یا سڑکوں پر کوڑا پھینکنے پر جرمانے کئے جائیں گے۔ جرمانوں کا مقصد کمائی کرنا نہیں بلکہ اصلاح کرنا ہے۔ صوبائی وزیر نے ڈی جی سُتھرا پنجاب اتھارٹی کو بھرپور آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مہم چلانے کے ساتھ مختلف مقامات پر آگاہی کیمپ لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شکایات پر ایکشن کا میکانزم بتدریج موثر بنایا جا رہا ہے۔ قلیل عرصے میں سُتھرا پنجاب نے بے شمار قابلِ تقلید اقدامات کئے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز کی خوبی ہے کہ وہ عوامی فلاح کے ہر کام کی فوراً سپورٹ کرتی ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ناممکن نظر آنے والے کئی کام وزیراعلی کی سیاسی عزم کے باعث ممکن ہوئے۔ سُتھرا پنجاب کا کنٹرول اب ڈویژن سے ضلع سطح پر منتقل کر دیا گیا ہے جس سے استعدادِکار میں بہتری آئے گی۔ ڈپٹی کمشنرز اور سُتھرا پنجاب اتھارٹی کے افسران حکومتی ہدایات پر عملدرآمد بنائیں گے۔ اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے ڈی جی سُتھرا پنجاب کو اتھارٹی کو جلد فعال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تحلیل شدہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے سٹاف کو اتھارٹی کے ماتحت کیا جا رہا ہے۔ صفائی فیس کے سروے کا کام جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ فیس کی ادائیگی کا طریقہ کار آسان رکھا گیا ہے۔



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…