بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

طیفی بٹ کے معاملے پر حمزہ شہباز اور مریم نواز میں تلخ کلامی کا دعویٰ

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دبئی سے لاہور منتقلی کے دوران مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے طیفی بٹ کے معاملے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز کے درمیان تلخ کلامی ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔صحافی اعزاز سید کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر کرائم رپورٹر احمد فراز نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے مریم نواز کو فون کر کے کہا کہ “طیفی بٹ کے معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور اس کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ ہو”۔احمد فراز کے مطابق اس پر مریم نواز نے سوال کیا کہ “آپ کا اُس شخص سے کیا تعلق ہے؟” جس کے جواب میں دونوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ “آپ اپنے والد صاحب سے پوچھیں”، جس پر مریم نواز نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا “چیخو مت” اور گفتگو ختم کرتے ہوئے فون بند کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مکالمہ تقریباً دو سے اڑھائی منٹ تک جاری رہا۔مزید گفتگو میں احمد فراز نے کہا کہ پولیس مقابلوں کے فیصلے صرف کسی ایک افسر کے نہیں بلکہ “یہ عمل حکومت، عدلیہ اور حساس اداروں کے باہمی علم میں ہو رہا ہے، ورنہ اب تک کسی نے سوموٹو کیوں نہیں لیا؟”۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران مریم نواز کے قائم کردہ ادارے سی سی ڈی کے تحت پنجاب میں ایک ہزار سے زائد مبینہ ملزمان کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔احمد فراز کے مطابق سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے دورِ حکومت میں بھی تقریباً 700 ملزمان پولیس مقابلوں میں مارے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ “موجودہ دور میں ہونے والے یہ تمام پولیس ایکشنز کل کو قانونی چارہ جوئی کا حصہ بن سکتے ہیں، اور یہی کیسز مستقبل میں 302 کے مقدمات کی شکل اختیار کریں گے۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…