بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر کو فیلڈ مارشل پسند کرتے ہیں، شیر افضل مروت کا دعویٰ

datetime 30  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پسندیدہ افراد میں شامل ہیں۔

نجی ٹی وی چینل اے بی این نیوز کے پروگرام میں اینکر علینہ شگری سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ جب علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی تو “یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہ دونوں وہ شخصیات ہیں جنہیں آرمی چیف پسند کرتے ہیں۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک شخص نے انہیں بتایا کہ ایک میٹنگ کے دوران آرمی چیف نے محسن نقوی کی جانب دیکھ کر کہا، “کیا آپ نے انہیں بتایا کہ میں ان کو پسند کرتا ہوں؟” — اور یہ بھی کہا کہ “جب بھی بیرسٹر گوہر ٹی وی پر آتے ہیں، میں آواز بڑھا کر سنتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔” شیر افضل مروت کے مطابق، علی امین گنڈاپور کے بارے میں بھی آرمی چیف نے مختلف ملاقاتوں میں مثبت باتیں کی تھیں۔

اس سے قبل بھی شیر افضل مروت نے ایک بڑا دعویٰ کیا تھا کہ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان 25 نومبر 2024 کو ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت عمران خان کی رہائی ہونی تھی۔

ان کے مطابق، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان 3 نومبر کو مذاکرات کا آغاز ہوا، جس کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں علی امین گنڈاپور، بیرسٹر گوہر، محسن نقوی اور رانا ثناء اللہ شامل تھے۔ ایک موقع پر شیر افضل مروت بھی اس کمیٹی کا حصہ بنے۔

انہوں نے بتایا کہ ان مذاکرات کے دوران کئی نکات پر اتفاق ہوا، جن میں عمران خان کی رہائی بھی شامل تھی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف کو اپنا طیارہ فراہم کیا تاکہ وہ مزید ملاقاتیں کر سکیں۔

شیر افضل مروت کے مطابق، 25 نومبر کی رات بیرسٹر گوہر جیل میں عمران خان سے ملاقات کے لیے گئے، جہاں عمران خان نے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کرنا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق، عمران خان کو اگلی صبح رہا کیا جانا تھا۔ تاہم، یہ سب اس وقت رک گیا جب رینجرز کا واقعہ پیش آگیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت اور ریاست دونوں کی کوشش تھی کہ کوئی تصادم نہ ہو اور تمام معاملات پرامن طریقے سے طے پا جائیں۔

شیر افضل مروت نے مزید بتایا کہ بیرسٹر گوہر نے عمران خان سے کہا کہ وہ ویڈیو ریکارڈ کروا دیں تاکہ خیبرپختونخوا سے آنے والے کارکنوں کو دکھا کر انہیں سنگجانی سے آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔ عمران خان نے اس پر جواب دیا کہ موبائل تو جیل والے لے لیتے ہیں، اس لیے وہ کسی اور کے موبائل پر ویڈیو نہیں بنانا چاہتے۔

انہوں نے بتایا کہ اس پر بحث ہوئی کہ ویڈیو جیل کی سلاخوں کے اِس طرف بنے یا اُس طرف، لیکن آخر کار فیصلہ ہوا کہ بیرسٹر گوہر اگلی صبح اپنا موبائل لائیں گے۔ تاہم، رینجرز اہلکاروں کے واقعے نے تمام منصوبہ بندی بدل دی۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ اگر وہ واقعہ نہ ہوتا تو نہ صرف عمران خان کی رہائی ممکن ہوتی بلکہ بہت سے سیاسی معاملات بھی حل ہو چکے ہوتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…