اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے جوڑے اب ابوظبی میں آن لائن شادی کرسکتے ہیں

datetime 16  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اگر آپ پاکستان، امریکا یا یورپ میں مقیم ہیں تو یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ اب آپ ابوظبی میں رہتے بغیر بھی شادی کر سکتے ہیں۔

یہ سہولت ورچوئل یا آن لائن نکاح کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے، جس کے تحت دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود جوڑے ابوظبی حکومت کی مخصوص ایپ کے ذریعے قانونی طور پر شادی کر سکتے ہیں — اور انہیں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ابوظبی نے اس مقصد کے لیے ایک ڈیجیٹل میرج سروس متعارف کرائی ہے جو ہر مذہب اور قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے دستیاب ہے۔ یہ سروس TAMM ایپ اور ابوظبی جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ کے پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے۔

یہ سروس کیسے کام کرتی ہے؟
یوزرز کو صرف ایک اچھی انٹرنیٹ کنکشن، درکار دستاویزات اور کسی اسمارٹ ڈیوائس کی ضرورت ہوگی۔
ایپ میں لاگ اِن ہو کر شادی کا فارم پُر کریں، مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کریں، نکاح یا تقریب مکمل کرنے والے اہل فرد کو بک کریں — اور 24 گھنٹوں کے اندر آپ کی ورچوئل شادی مکمل ہو جائے گی۔

فیس اور قانونی حیثیت
آن لائن نکاح کی فیس 800 درہم (تقریباً 61 ہزار پاکستانی روپے) مقرر کی گئی ہے۔
اگر جوڑا یو اے ای کے باہر مقیم ہے تو انہیں وہاں اپنے نمائندے یا وکیل کو مقرر کرنا ہوگا جو قانونی کارروائی مکمل کرے گا۔

تقریب مکمل ہونے کے بعد، جوڑے کو حکومتِ ابوظبی کی جانب سے تصدیق شدہ میرج سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا، جو نہ صرف یو اے ای بلکہ دنیا بھر میں تسلیم کیا جائے گا۔
مزید برآں، بیرون ملک سرکاری مقاصد کے لیے اس سرٹیفکیٹ کی تصدیق 300 درہم میں کرائی جا سکتی ہے۔

حکام کے مطابق، اس منصوبے کا مقصد ذاتی حیثیت سے متعلق قوانین کو جدید خطوط پر استوار کرنا، سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل بنانا اور شہریوں کو زیادہ آسان سہولیات فراہم کرنا ہے۔

خیال رہے کہ کووڈ-19 کے دوران یو اے ای میں ورچوئل شادی کے تجربات کیے گئے تھے، تاہم اب اس کا نیا اور باقاعدہ ورژن زیادہ وسیع پیمانے پر عام کیا جا رہا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…