بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

دفتر خارجہ کا مشتاق احمد خان کی وطن واپسی سے متعلق اہم بیان

datetime 6  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — وزارتِ خارجہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا سے متعلق تازہ بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان اسرائیلی حراست میں ہیں تاہم وہ محفوظ اور صحت مند ہیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، پاکستانی حکومت اپنے تمام شہریوں کی فوری رہائی اور بحفاظت وطن واپسی کے لیے سرگرم ہے۔ اس مقصد کے تحت بین الاقوامی اداروں اور دوست ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کارروائی جلد مکمل ہو سکے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ قانونی تقاضوں کے مطابق مشتاق احمد خان کو اسرائیلی عدالت میں پیش کیا جائے گا، اور جیسے ہی ڈی پورٹیشن آرڈر جاری ہوگا، انہیں پاکستان واپس بھیج دیا جائے گا۔

دفتر خارجہ نے وضاحت کی کہ حکومت پہلے بھی ان پاکستانی رضاکاروں کی مدد کر چکی ہے جو فلوٹیلا سے الگ ہو کر مختلف مقامات پر اتارے گئے تھے۔ پاکستان نے ان ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے اپنے تعاون سے وطن واپسی کے عمل کو ممکن بنایا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور توقع ظاہر کی کہ باقی افراد کی واپسی آئندہ چند دنوں میں مکمل ہو جائے گی۔

ادھر اطلاعات کے مطابق، صمود فلوٹیلا کے 137 شرکا اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد استنبول پہنچ چکے ہیں، جہاں ان کا ائیرپورٹ پر والہانہ استقبال کیا گیا۔ رہا ہونے والوں میں امریکا، اٹلی، برطانیہ، اردن اور متعدد دیگر ممالک کے رضاکار شامل ہیں۔

تاہم تین سو سے زائد کارکن اب بھی اسرائیلی حراست میں ہیں، جن میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، قید میں بدسلوکی کے خلاف کئی رضاکاروں نے بھوک ہڑتال بھی شروع کر دی ہے۔

دوسری جانب، اٹلی سے دس نئی کشتیوں پر مشتمل ایک اور فلوٹیلا بھی غزہ کی جانب روانہ ہو گئی ہے جو محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…