منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ممتاز چینی جامعہ سے منتخب شدہ چھ اسکالروں میں پاکستانی بھی شامل

datetime 24  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستانی طالبعلم کو چین کی اعلیٰ ترین جامعہ کے سخت معیارات کو پورا کرتے ہوئے پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کیلئے 1200 امیدواروں میں سے منتخب کرلیا گیا ہے۔احمد یار سکھیرا 64 ممالک کے 1200 امیدواروں میں منتخب چھ اسکالروں میں شامل ہیں جو شینزن میں واقع، ہاربن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کریں گے، انہیں چینی حکومت کی جانب سے “غیرمعمولی ٹیلنٹ اسکالرشپ” کا حصہ بننے پر ایک بیج بھی دیا گیا ہے۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے احمد یار نے بتایا کہ ہاربِن انسٹی ٹیوٹ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی شہرت رکھتا ہے۔

سخت معیارات کے تحت بہت ہی کم طالبعلم یہاں پی ایچ ڈی اسکالرشپ کے لیے منتخب ہوتے ہیں اور اس سال میں واحد پاکستانی ہوں، جسے یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔انہوںنے کہاکہ میں نینوٹیکنالوجی اور نینومیڈیسن میں تحقیق اور تخلیق کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ ایک ابھرتا ہوا اور شاندار طبی شعبہ ہے۔ اس میں نینوذرات، نینوبوٹس اور دیگر اجزا بدن کے اندر جاکر درست ترین انداز میں کام کرتے ہیں اور یوں شفا کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔واضح رہے کہ احمد یار سکھیرا نے مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے تحت کام کرنے والا ” ٹیمپرامنٹ اینڈ بلڈ پریشر انڈیکشین بوٹ”بنایا ہے جسے ”طبیب”کا نام دیا ہے،یہ اپنی نوعیت کی واحد طبی ایجاد ہے جو بلڈ بلڈ پریشر جیسی ‘خاموش قاتل’ کیفیت کو کئی لحاظ سے نوٹ کرتے ہوئے اس کی وجہ بننے والے دیگر عوامل سے خبردار کرتا ہے، طبیب نفسیاتی (سائیکولوجیکل) فعلیاتی (فزیالوجیکل) اور جسمانی وزن و ساخت (اینتھروپومیٹرک) جیسی کیفیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بتاتا ہے کہ بلڈ پریشر میں اس کا کتنا کردار ہے۔احمد یار سکھیرا نے ہمدرد یونیورسٹی آف ایسٹرن میڈیسن سے گریجویشن اور اس کے بعد ایم فل کیا ہے۔ طبیب ان کے ایم فل تھیسس کا حصہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…