منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

والد کی میت گاؤں لاتے ہوئے گاڑی کو حادثہ، بدقسمت خاندان کے مزید 7 افراد جاں بحق

datetime 8  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پنجاب کے ضلع نوشہرو فیروز میں قومی شاہراہ پر تیز رفتار ٹرالر اور کار کے تصادم میں ایک ہی خاندان کے سات افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔پولیس کے مطابق حادثہ سدھوجا کے قریب پیش آیا جب ٹرالر نے کار کو زور دار ٹکر مار دی۔ جاں بحق ہونے والوں میں دو بچے، دو مرد اور تین خواتین شامل ہیں۔ لاشوں کو ان کے آبائی گاؤں منتقل کر دیا گیا۔

متوفی میں سے ایک کی شناخت علی احمد جانوری کے نام سے ہوئی، جو ضلع خیرپور کے گاؤں لقمان جان محمد جانوری کا رہائشی تھا۔ بتایا گیا کہ وہ اپنے والد غلام محمد جانوری کی میت کراچی سے گاؤں لے جا رہے تھے کہ راستے میں یہ المناک حادثہ پیش آیا۔ ان کی اہلیہ شبیراں اور بیٹی اسماء بھی حادثے کا شکار ہو گئیں۔اسی روز موٹروے ایم فائیو پر بھی ایک اور افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں ڈرائیور کو نیند آنے کے باعث کار بے قابو ہو کر ٹرالر سے جا ٹکرائی۔

اس حادثے میں بھی ایک ہی خاندان کے چار افراد، جن میں ایک کمسن بچہ بھی شامل ہے، جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔تفصیلات کے مطابق محمد نگر کے رہائشی 50 سالہ محمد خالد اپنی 45 سالہ اہلیہ غزالہ بی بی، بیٹے ارباز، بہو عدیلہ نبی، بیٹی اقراء اور نو ماہ کے پوتے داؤد کے ہمراہ ملتان سے واپس جا رہے تھے کہ ظاہر پیر کے قریب حادثہ پیش آیا۔ محمد خالد، غزالہ بی بی، عدیلہ نبی اور ننھا داؤد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ارباز اور اقراء کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جاں بحق افراد کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقوں کوٹ سمابہ اور صادق آباد میں ادا کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…