منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بارشوں اور سیلاب سے بیس لاکھ افراد بے گھر ہوگئے

datetime 1  ستمبر‬‮  2025 |

لاہور (این این آئی)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا کہ سیلاب سے ملک بھر میں بیس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں ، فوری طور پر ان کی بحالی کے لئے اقدامات کرنے ہونگے ، سیلاب سے متاثرہ افراد کو خوراک ،مچھر دانیاں،صاف پانی ،پانی کے ٹینک،ادویات کی اشد ضرور ہے ۔ مخیر افراد دل کھول کر سیلاب زدگان کی امداد کریں ۔جماعت اسلامی اور الخدمت فاونڈیشن کے ہزاروں رضا کار اس وقت فیلڈ میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مزید 8 لاکھ کیوسک پانی چھوڑنے سے ایک مرتبہ پھر سے چناب میں سیلابی کیفیت ہو گی ہے،موسلادھار بارشوں نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ہزاروں دیہات زیر آب آنے سے سیکڑوں مویشی ہلاک اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔پنجاب میں سیلاب سے اب تک 33 افراد جاں بحق جبکہ 20 لاکھ افراد اور 2200 دیہات متاثر ہوئے۔ 7 لاکھ افراد نے متاثرہ علاقوں سے انخلاء کیا ہے۔

سینکڑوں دیہات زیرآب آچکے ہیں ، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی تیار فصیلیںبرباد اور مویشی ہلاک ہو گئے ہیں۔سات لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے سیلاب متاثرین کے ریلیف اور بر وقت امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے حکومتوں کی کارکردگی نا قص رہی ہے۔ جدید ڈیجیٹل دور میںجب بھارت کے اندر سیلاب کی کیفیت تھی تو ہمارے ادارے خواب خرگوش میں کیوں مصروف رہے اور عوام کو سیلاب سے دوچار کیا ۔ سیٹیلائٹ کے ذریعے بر وقت معلومات اکھٹی کرکے بچاو کے اقدامات کیوں نہ کئے گئے ۔؟محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کے لئے ایک بڑا چیلنج بن چکیں ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے نمٹنے کے لئے حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ ڈیمز نہ بننے کی وجہ سے ہر سال اربوں روپے مالیت کا پانی سمندر برد ہو جاتا ہے رواں سال یکم اپریل سے اب تک ایک کروڑ 18لاکھ ایکڑ فٹ پانی ضائع ہو گیا ہے ۔جس کی کل مالیت 11ارب ڈالر بنتی ہے ۔ایک ملین ایکڑ فٹ کی اکنامک ویلیو ایک ارب ڈالر ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…