منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کالج کا ایک کمرہ ایک ایک کروڑ روپے کا بنا رہی ہے، وفاقی وزیر خواجہ آصف کا انکشاف

datetime 1  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت ایک سکول کے کمرے کی تعمیر پر خطیر رقم خرچ کر رہی ہے۔ ایک نجی نیوز چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں جناح اسلامیہ کالج کے کمروں پر ایک ایک کروڑ سے زائد رقم لگائی جا رہی ہے، جب کہ بعض کمروں پر 70 سے 80 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں، جبکہ نجی ادارے یہی کمرے 20 لاکھ میں تعمیر کر کے دیتے ہیں اور ان کی تعمیر کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اصل کرپشن بیوروکریسی میں ہے، ہم سیاستدان تو چند سال کے لیے آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن دہائیوں سے عہدوں پر بیٹھے یہ لوگ قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے بقول، سیاستدانوں کے پاس لوٹ مار کا محدود وقت ہوتا ہے لیکن ان مستقل عہدیداروں کا ’’میٹر‘‘ بند نہیں ہوتا۔مزید برآں، وزیر دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں سیالکوٹ کے خادم علی روڈ پر ہونے والے تعمیراتی کام کی ناقص حالت دکھائی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ PICIIP کے نام سے ورلڈ بینک کے قرضے پر سیالکوٹ اور ساہیوال میں کئی سال سے جاری ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق، شہر کے باہر ڈسپوزل تو بن گئی ہے مگر نظام تاحال فعال نہیں ہوا، اور اس منصوبے کا ٹھیکیدار نہ صرف اثر و رسوخ رکھتا ہے بلکہ پارلیمنٹ کا رکن بھی ہے۔اس پر ردعمل دیتے ہوئے صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ اگر ملک میں وزیر دفاع بھی کسی ٹھیکیدار کے سامنے بے بس ہیں تو عام شہریوں کے ووٹ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ انہوں نے طنزاً کہا کہ لوگ اپنے ووٹ صرف آواز بلند کرنے کے لیے دیتے ہیں، لیکن ان آوازوں کی گونج اکثر انہی کھڈوں میں دب جاتی ہے جن میں عوام گر کر زخمی ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…