اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات عرفان ورک نے بتایا ہے کہ مون سون کا موجودہ سلسلہ آج سے بالائی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ ستمبر کے پہلے ہفتے کے اختتام پر بارشوں کا ایک اور اسپیل پاکستان میں داخل ہوگا۔عرفان ورک کے مطابق، رواں سال مون سون کے دوران اب تک معمول سے 12 فیصد زیادہ بارشیں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
محکمہ موسمیات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، نوشہرہ، صوابی، مری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور ڈیرہ غازی خان کے علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں، مری، گلیات اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، نارووال، پشاور، نوشہرہ اور مردان کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے۔محکمہ موسمیات نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسلادھار بارش، آندھی اور گرج چمک کے باعث روزمرہ کے معمولات میں رکاوٹ، کچے مکانات، دیواروں، بجلی کے کھمبوں، بل بورڈز، گاڑیوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔مسافروں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سفر سے قبل موسمی حالات سے باخبر رہیں اور ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے محفوظ رہا جا سکے۔