منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

دریائے ستلج میں غیر معمولی سیلاب،1955ء میں اتنا بڑا ریلا ستلج سے گزرا تھا

datetime 29  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایکسپریس نیوز کے مطابق، ہٹیاں بالا سے گزرتا دریائے جہلم مقبوضہ کشمیر کے بارہ مولا ضلع کے سرحدی علاقے اوڑی سے آزاد کشمیر کے قصبہ چکوٹھی اور چناری میں داخل ہوتا ہے، جہاں آج دوسری مرتبہ پانی کی سطح میں تقریباً سات فٹ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ دریائے جہلم کا سیلابی ریلا دوبارہ مظفرآباد کی سمت بڑھ رہا ہے۔ اس دوران چناری اور قریبی علاقوں میں مقامی لوگ، بشمول مرد، خواتین اور بچے، دریا کے کناروں پر لکڑیاں اکٹھی کرنے میں مصروف ہیں، جس سے ان کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر شدید طغیانی پیدا ہوگئی ہے جبکہ جی ایس والا پر بہاؤ ساڑھے تین لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے۔ محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں کے مطابق، مسلسل بارشوں اور بھارت کی جانب سے ممکنہ طور پر مزید پانی چھوڑے جانے سے صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ قصور اور گردونواح کے علاقوں میں انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید اور ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ دریائے ستلج، جو پہلے دو لاکھ اکسٹھ ہزار کیوسک پر بہہ رہا تھا، اب ساڑھے تین لاکھ کیوسک تک جا پہنچا ہے۔ ان کے مطابق، 1955 کے بعد یہ سب سے بڑا ریلا ہے۔ قصور شہر کو بچانے کے لیے آر آر اے ون کو توڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

عرفان علی کا کہنا تھا کہ ہیڈ سلیمانکی پر پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور آئندہ دو روز میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ شاہدرہ میں پانی کی مقدار کم ہوئی ہے لیکن ہیڈ بلوکی پر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اوکاڑہ، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کی انتظامیہ نشیبی علاقوں سے لوگوں کو منتقل کر چکی ہے، جبکہ دریائے چناب میں بھی بلند ترین سطح کا سیلاب جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ منڈی بہاالدین کے 30 سے 40 دیہات سیلابی پانی کی زد میں ہیں اور پانی آہستہ آہستہ واپس دریا کی طرف جا رہا ہے۔ جھنگ شہر کو بچانے کے لیے ریواز ریلوے برج کو توڑنے سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی کی کمی ہوئی ہے، تاہم ہیڈ تریموں پر بہاؤ کم ہونے کے باوجود ڈاؤن اسٹریم میں پانی کی سطح مزید بلند ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، جھنگ شورکوٹ روڈ کے کچھ حصے کو بھی توڑ دیا گیا ہے۔پنجاب کے تین بڑے دریا اس وقت سپر فلڈ کی لپیٹ میں ہیں اور اب تک صوبے میں 28 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں زیادہ تر اموات گوجرانوالہ ڈویژن میں فلیش اور اربن فلڈنگ کے باعث ہوئیں۔ حکام کے مطابق، آئندہ چند گھنٹے قصور اور قریبی علاقوں کے لیے نہایت اہم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…