منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

پہلی مرتبہ 10 لاکھ کیوسک سے بڑا پانی کا ریلہ،دریائے چناب کا بند توڑنے کا فیصلہ

datetime 27  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دریائے چناب پر ہیڈ خانکی کے مقام پر پہلی مرتبہ 10 لاکھ ایک ہزار 480 کیوسک پانی کا گزر ریکارڈ کیا گیا ہے، حالانکہ اس ہیڈورکس کی ڈیزائن کردہ گنجائش صرف 8 لاکھ کیوسک ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق شدید سیلابی دباؤ کی وجہ سے ہیڈ خانکی کے ہائیڈرو لِک ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے تمام ریسکیو سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کریں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات کو ترجیح دیں، امدادی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں اور سیلاب زدہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سب سے بڑا ریلا 2014 میں آیا تھا، جس میں 9 لاکھ 48 ہزار کیوسک پانی گزرا تھا۔محکمہ آبپاشی کے سب انجینئر کے مطابق 10 لاکھ کیوسک کا یہ ریلا چھ گھنٹے بعد ہیڈ قادرآباد تک پہنچے گا، جس کی گنجائش 9 لاکھ کیوسک ہے۔ ہیڈ مرالہ پر اس وقت پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 11 ہزار کیوسک ہے۔کمشنر گوجرانوالہ نے بتایا کہ ہیڈ قادرآباد کی استعداد 9 لاکھ کیوسک ہے، اس لیے پیشگی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ پانی کی بڑی مقدار پہنچنے سے قبل ہی دریائے چناب میں حفاظتی شگاف ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔

قادرآباد کے ایک طرف حافظ آباد جبکہ دوسری جانب منڈی بہاؤالدین کے علاقے ہیں، دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ قریبی دیہات کو فوری طور پر خالی کروا لیا جائے۔مزید بتایا گیا ہے کہ ہیڈ مرالہ پر پانی کے بہاؤ میں بھارت کی جانب سے کمی کی گئی ہے جو 9 لاکھ کیوسک سے کم ہو کر 6 لاکھ کیوسک پر آ گیا ہے۔ تاہم، 10 لاکھ کیوسک کے اس دباؤ کو ہیڈ قادرآباد سے بحفاظت گزارنا انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…