اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بیٹے کی کوئی ہائوسنگ سکیم نہیں اور نہ میرے اکائونٹ میں 49ارب ہیں،جس نے تحقیق کرنی ہے میرے دروازے کھلے ہیں، مولاناطارق جمیل

datetime 10  اپریل‬‮  2025 |

مکوآنہ (این این آئی)معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کی نہ تو کوئی ہاوسنگ سکیم نہیں اور نہ ہی میرے اکاونٹ میں 49ارب موجود ہیں،جس نے تحقیق کرنی ہے میرے دروازے کھلے ہیں، رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر بینک اکاونٹ میں اربوں موجود ہونے کی خبریں چلنے پر اپنے بیان میں مولانا طارق جمیل نے کہا کہ یہ دونوں چیزیں بہت ہی غلط پھیلائی جا رہی ہیں۔میں صرف ان دو چیزوں پر اپنی صفائی پیش کرنا چاہتا تھا۔ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں ایک کھاتے پیتے گھرانے سے ہوں۔اللہ تعالی نے ایک بھرم بنایا ہوا ہے لیکن کروڑوں روپے کبھی میرے پاس نہیں آئے۔مجھے اللہ کے راستے میں چلتے ہوئے 52 سال ہوگئے لیکن کبھی اس طرح کے حرام مال کی طرف نہیں گیااور نہ ہی اپنے بچوں کو حرام کی کبھی ترغیب دی ہے اپنے بچوں کو ہمیشہ حلال رزق کمانے کی تلقین کی ہے۔اگر میں نے یہی کام کرنا تھا تو میری 52 سال کی محنت تو صفر ہوگئی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میری باتوں سے ہزاروں لوگ ایمان لائے اور غیر مسلموں نے کلمہ پڑھا۔ 6 براعظموں میں اللہ میری آواز پہنچا رہا ہے۔میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا کہ اس طرح کا کام کرسکتا ہوں۔

ا پنے بچوں کو کبھی کوئی غلط لقمہ نہیں کھلایا اور نہ ہی کبھی غیرقانونی طریقے سے پیسہ بنایا ہے۔مولانا طارق جمیل کا یہ بھی کہنا تھاکہ حسد کرنے والوں کی زبان کون بند کرسکتا ہے؟ جب سے اس راستے پر چلا ہوں کبھی زندگی میں جھوٹ نہیں بولا۔انہوں نے کہا کہ ایک بار پہلے بھی میرے بارے میں خبر چلی کہ میرے اکاونٹ میں 50 ارب روپے موجود ہیں اور اب پھر کہا جا رہا ہے کہ میرے اکاونٹ میں 49 ارب روپے موجود ہیں۔میرے سارے اکا?نٹ سب کے سامنے ہے۔میرے گھرکے دروازے کھلے ہیں جس نے جو بھی تحقیقات کرنی ہیں آکر کر لے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…