ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

18 سال عمر ہونے پر شناختی کارڈ نہ بنانے پر سخت سزا ہوگی

datetime 9  ستمبر‬‮  2024 |

مکوآنہ ( این این آئی )سمارٹ شناختی کارڈ بنیادی شناختی دستاویز ہے کیونکہ یہ سرکاری خدمات سمیت مختلف شعبوں میں عمل کو آسان بناتا ہے،پاکستانیوں کو مختلف خدمات تک رسائی جاری رکھنے کے لیے اپنے اسمارٹ قومی شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے سے پہلے یا جلد از جلد تجدید کرنی ہوگی۔تفصیلات کیمطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ( نادرا) ان شناختی کارڈز کے اجرائ اور تجدید کی نگرانی کرتی ہے، جو بینک اکاؤنٹس کھولنے، جائیداد کی خریداری، سرمایہ کاری، اور روزگار کو محفوظ بنانے جیسے کاموں کے لیے اہم ہیں۔

نادرا آرڈیننس 2000 کے سیکشن (1)9کے تحت پاکستان کے ہر شہری کے لئے 18 سال عمر ہونے پر شناختی کارڈ بنوانا لازم ہے،والدین یا سرپرست اپنے بچوں کی عمر 18 سال ہونے پر اْن کے شناختی کارڈ بنوائیں اور پاکستانی شہری کے طور پر بچوں کے تمام حقوق یقینی بنائیں۔نادرا آرڈیننس کے سیکشن (e) 30 کے مطابق 18 سال عمر ہونے کے بعد 90 دن کے اندر اندر کسی معقول وجہ کے بغیر قومی شناختی کارڈ کے لئے درخواست جمع نہ کرانے پر زیادہ سے زیادہ چھ ماہ قید بامشقت یا 50 ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

ستمبر 2024 میں اسمارٹ کارڈ کی عام پروسیسنگ کے لیے فیس 750 روپے، فوری سروس کے لیے 1,500 روپے، اور ایگزیکٹو سروس کے لیے 2,500 روپے ہے۔کارڈ 10 سال کے لیے کارآمد ہے اور ہر سروس لیول کے لیے پروسیسنگ کا وقت درخواست کی منظوری کے بعد شروع ہوتا ہے، ڈیلیوری چارجز ان فیسوں میں شامل نہیں ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…