ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

محکمہ داخلہ نے جیلوں میں قیدیوں کی مشقت کیلئے یونیفارم لیبر سکیل متعارف کروا دیا

datetime 6  ستمبر‬‮  2024 |

لاہور( این این آئی)محکمہ داخلہ پنجاب نے جیلوں میں قیدیوں کی مشقت کیلئے یونیفارم لیبر سکیل متعارف کروا دیا۔قبل ازیں عدالت سے قید بامشقت پانے والے مجرمان سے ایک دن میں کتنی مشقت کروائی جائے طے نہیں تھا،مشقت کے کسی پیمانے کی عدم موجودگی میں تمام قیدیوں سے مساوی سلوک روا رکھنا ممکن نہیں تھا۔

یونیفارم لیبر سکیل کی عدم موجودگی کے باعث جیلوں میں قائم انڈسٹریز بہترین انداز میں کام نہیں کر پا رہی تھیں۔پاکستان پریزنز رولز 1978 کے مطابق جیل میں مشقت کرنے والا قیدی کم از کم ایک آزاد مزدور جتنا کام کرنے کا پابند ہے۔جیلوں میں قائم انڈسٹریز کیلئے مساوی لیبر سکیل مارکیٹ سروے کے بعد تیار کیا گیا ۔قالین، صندوق، لوہے کی چارپائی، وارڈر اور قیدیوں کے لباس، دری، کمبل، کوٹ اور کاٹن نوار کی تیاری بارے روزانہ کے اہداف مقرر کئے گئے ہیں۔ایک ماہ تربیت کے بعد ایک قیدی دن میں لوہے کی 2 چارپائیاں تیار کرے گا،2 ماہ تربیت کے بعد 3 قیدی دن میں 1 کِٹ باکس صندوق تیار کریں گے۔ایک ماہ تربیت یافتہ ایک قیدی دن میں 2 انچ چوڑائی کی 25 فٹ کاٹن نوار تیار کرے گا۔

ایک ماہ تربیت یافتہ قیدی دن میں 6 فٹ لمبائی اور اڑھائی فٹ چوڑائی کی ایک دری تیار کرے گا۔یونیفارم لیبر سکیل کے مطابق قیدی ایک ماہ تربیت کے بعد 7 فٹ لمبائی اور سوا 4 فٹ چوڑائی کے 3 کمبل تیار کرے گا۔2 ماہ تربیت کے بعد قیدی دن میں 2 یونیفارم سوٹ سلائی کرے گا۔2ماہ تربیت یافتہ قیدی دن میں یونیفارم کے کپڑے کی 6 میٹر بنائی کرے گا۔3 ماہ تربیت کے بعد قیدی 2 دن میں وارڈز کی 3 شرٹ سلائی کرے گا۔3 ماہ تربیت یافتہ قیدی 2 دن میں وارڈز کی 3 پینٹ سلائی کرے گا۔1 ماہ تربیت کے بعد قیدی 2 فٹ چوڑے قالین کے 12 وارز بنے گا۔نئے لیبر سکیل کے مطابق مشقت مکمل کرنے والے قیدیوں کو ہی قانون کے مطابق سزا میں معافی مل سکے گی ۔پنجاب بھر میں جیلرز کو نئے مساوی لیبر سکیل کے مطابق قیدیوں سے مزدوری کروانے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…