جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

عدت میں نکاح کیس دوسری عدالت میں ٹرانسفر کرنے کی درخواست منظور

datetime 3  جون‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدلت نکاح کیس دوسری عدالت میں ٹرانسفر کرنے کی درخواست منظور کر لی۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے کیس ٹرانسفر کے لیے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا تھا۔ پیر کو عدالت نے کیس ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا کی عدالت کو ٹرانسفر کر دیا۔عدت میں نکاح کیس اب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا سماعت کریں گے۔یاد رہے کہ خاور مانیکا نے جج شاہ رخ ارجمند پر اعتراض کیا تھا۔سماعت کے آغاز پر سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ رضوان عباسی سے مشاورت کر کے بتا دیں آپ چاہتے کیا ہیں۔

معاون وکیل خاور مانیکا نے سیشن جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا کیس کسی اور عدالت میں ٹرانسفر کر دیں۔جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ عدم اعتماد کی درخواست پہلے بھی خارج ہو چکی ہے، جو بتانا ہے اپنے وکیل کو بتا دیں۔خاور مانیکا نے سیشن جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے فیصلہ نہیں کروانا چاہتا۔سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے خاور مانیکا سے سوال کیا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ بار بار عدم اعتماد کیا جا رہا ہے، ایک بات چیت ہوتی، کچھ ٹھوس وجہ ہے تو بتائیں، کسی نہ کسی جج نے تو فیصلہ کرنا ہے جس کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج عدت میں نکاح کیس میں سزاؤں کے خلاف بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر فیصلہ سنائے بغیر اپنے چیمبر میں چلے گئے تھے۔

اس کے بعد عدت میں نکاح کیس کی سماعت کرنے والے جج شاہ رخ ارجمند نے رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا اور کہا کہ بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر تھیں، خاور مانیکا نے مجھ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔جج نے کہا کہ عدم اعتماد کی درخواست اس سے قبل خارج کی جا چکی، خاور مانیکا کے دوبارہ عدم اعتماد پر اپیلوں پر فیصلہ سنانا درست نہ ہو گا، اپیلوں کو دیگر کسی عدالت میں ٹرانسفر کرنے کی درخواست ہے، خاور مانیکا اور ان کے وکلاء نے ہمیشہ سماعت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…