جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب حکومت کا رواں برس سستے رمضان بازار نہ لگانے کا فیصلہ

datetime 28  فروری‬‮  2024 |

لاہور ( این این آئی) پنجاب حکومت نے سبسڈی سے چلنے والے رمضان بازاروں کا منصوبہ ختم کردیا۔سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے منصوبے میں سبسڈی پر رمضان بازار لگائے جاتے تھے، نئی حکومت نے مستحقین کو گھر کی دہلیز پر گفٹ ہیمپر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔رمضان بازاروں سے مستفید ہونے والے سفید پوش اور عام صارفین کونظر انداز کردیا گیا، اب سابق وزیر اعلی کی روایت کے برعکس صرف مستحقین کو گفٹ پیکیجز ملیں گے، ماہ صیام میں اس بار لاہور سمیت پنجاب بھر میں 313 سبسڈائزڈ بازار نہیں لگیں گے۔

ذرائع کے مطابق لاہور کے ماڈل بازاروں میں ایگریکلچر فیئر پرائس شاپس فعال کی جائیں گی، ماڈل بازاروں میں 25فیصد رعایتی قیمت پر سبزیاں اور پھل فروخت ہوں گے، صوبائی دارالحکومت میں بھی معمول کے 31رمضان بازار نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومتی فیصلے کے بعد عام صارف ماہ مقدس میں سرکاری ریلیف سے محروم رہے گا، ضلعی انتظامیہ کو رمضان نگہبان سکیم کو فعال کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

رمضان نگہبان پیکیج کے تحت لاہور ڈویژن میں10لاکھ 10ہزار 146مستحقین کو گفٹ ہیمپرز ملیں گے، لاہور میں 4لاکھ 58ہزار اور قصور میں 43ہزار 924افراد سکیم میں شامل ہیں، شیخوپورہ میں 58ہزار 193اور ننکانہ صاحب میں 32ہزار مستحقین کو پیکیج میں شامل کیا جائے گا۔کمشنر لاہور ڈویژن محمد علی رندھاوا کا کہنا ہے کہ تمام اضلاع میں حسب ضرورت مجسٹریٹس کی تعداد بڑھا سکتے ہیں، پرائس کنٹرول کے معاملے میں مجسٹریٹس کی غفلت پر زیرو ٹالرنس ہے، مسنگ رابطہ نمبرز، ایڈریسز،شناختی کارڈز مینوئل انداز میں معلوم کیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…