جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

میڈیا کا آج کل بس یہی کام ہے کہ جھوٹی خبریں چلاکرریٹنگ لو،چیف جسٹس

datetime 21  فروری‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائزعیسیٰ نے میڈیا پر غیر مصدقہ اور جھوٹی خبریں چلنے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔بدھ کوچیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 3رکنی بینچ نے 8فروری کے عام انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس میں کہاکہ ہفتے کو ایک مرکزی ٹی وی چینل پرخبر چلی کہ ججزکا اجلاس ہوگیا ہے،میرا ساتھی ججزکے ساتھ کوئی اجلاس نہیں ہوا لیکن یہاں تو میڈیا آزاد ہے،میرے ساتھی جج مجھ سے پوچھ رہے ہیں بتائیں پھر اجلاس میں کیا ہوا؟ ججز آکرپریس کانفرنس کرکے وضاحتیں تو نہیں دے سکتے۔

چیف جسٹس نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خبر چلانے سے پہلے تصدیق توکرلیا کریں، رجسٹرارکوکال کرکے پوچھ لیں،یہاں جینوئن صحافی نوکری سے فارغ ہورہے ہیں، اب یہ میڈیاچلائیگا نہیں کہ بریگیڈئیرکاکورٹ مارشل ہوا تھا،ہر چیزپربس ضمیربیچ دو۔جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ گھربیٹھ کرکچھ بھی چلادیتے ہیں،سچ بولیں اورسچ بتائیں لیکن نہیں،یہاں میڈیا کوبس اپنی ریٹنگ کی پڑی ہے،اب ہرکوئی آکرکھڑا ہوجائے کہ درخواست خارج کیوں کردی،میڈیا کا آج کل بس یہی کام ہے کہ جھوٹی خبریں چلاکر ریٹنگ لو۔اس دوران صدر سپریم کورٹ بار نے کہاکہ ہفتے کو تویہ خبربھی چل گئی تھی کہ بینچ بن گیا اور سماعت شروع ہوگئی اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ میڈیا سے غلطی بھی ہوسکتی ہے لیکن وضاحت بھی توچلائیں کہ خبرغلط چلی،اگرمیڈیا 10جھوٹی خبریں چلائیگا تو لوگ ان کی خبروں پر اعتمادکرناچھوڑ دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…