جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

نااہلی کی مدت 5 سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

datetime 20  فروری‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے سیاست دانوں کی تاحیات نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ سیاست دانوں کی تاحیات نااہلی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے۔53 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا ہے، تفصیلی فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ شامل ہے جبکہ جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ بھی تفصیلی فیصلے کا حصہ ہے۔سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق سمیع اللّٰہ بلوچ کیس میں تاحیات نااہلی کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے، سپریم کورٹ نے سمیع اللّٰہ بلوچ کیس میں تاحیات نااہلی کا ڈکلیئریشن دے کر آئین بدلنے کی کوشش کی۔عدالتی فیصلے کے مطابق الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد نااہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی، آرٹیکل 62 ون ایف میں تاحیات نااہلی کا کہیں ذکر نہیں۔سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا تصور بنیادی حقوق کی شقوں سے ہم آہنگ نہیں ہے، ضیائ الحق نے مارشل لا لگا کر آرٹیکل 62 میں تاحیات نااہلی کی شق شامل کرائی۔

سپریم کورٹ کے مطابق تاحیات نااہلی انتخابات لڑنے اور عوام کے ووٹ کے حق سے متصادم ہے، عدالت الیکشن ایکٹ کے اسکوپ کو موجودہ کیس میں نہیں دیکھ رہی۔تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کو تنہا پڑھا جائے تو اس کے تحت سزا نہیں ہوسکتی، آرٹیکل 62 ون ایف میں درج نہیں کہ کورٹ آف لا کیا ہے۔عدالت نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف واضح نہیں کرتا کہ ڈیکلریشن کس نے دینی ہے، ایسا کوئی قانون نہیں جو واضح کرے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔سپریم کورٹ نے جاری کردہ فیصلے میں بتایا کہ سابق جج عمر عطا بندیال نے سمیع اللّٰہ بلوچ کیس کا فیصلہ لکھا اور خود فیصلے کی نفی بھی کی، سابق جج عمر عطا بندیال نے فیصل واوڈا اور اللّٰہ ڈینو بھائیو کیس میں اپنے ہی فیصلے کی نفی کی۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ تاحیات نااہلی ختم کرنے کے فیصلے سے اختلاف کرتا ہوں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی مستقل یا تاحیات نہیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کورٹ آف لا کی ڈیکلریشن تک محدود ہے، نااہلی تب تک برقرار رہتی ہے جب تک کورٹ آف لا کی ڈیکلریشن موجود ہو۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ سپریم کورٹ کا سمیع اللّٰہ بلوچ کیس کا فیصلہ درست تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…