جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

خیرات نہیں چاہیے، حافظ نعیم کا پی ایس 129 کی نشست چھوڑنے کا اعلان

datetime 12  فروری‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)امیر جماعت اسلامی کراچی اور نو منتخب رکن سندھ اسمبلی حافظ نعیم الرحمان نے پی ایس 129 کی اپنی جیتی ہوئی نشست چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ادارہ نورحق میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی اور نو منتخب رکن سندھ اسمبلی حافظ نعیم الرحمان نے پی ایس 129 کی اپنی جیتی ہوئی نشست چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ مجھے خیرات میں یہ سیٹ دے رہے ہیں۔ اس حلقے سے مجھ سے زیادہ ووٹ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سیف کو ملے اور میں اتنا ظرف رکھتا ہوں کہ اس سیٹ کو نہیں رکھوں گا اسی لیے پی ایس 129 کی سیٹ واپس کرتا ہوں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی میں 50 فیصد سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر 8 بجے پولنگ شروع نہیں ہوئی تھی جب کہ پولنگ کے اختتام تک درجنوں پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔ انتخابی نا اہلی اور جان بوجھ کر عوام کو حق رائے دہی سے محروم کیا گیا اور پہلے سے فراہم کیے گئے بکس پولنگ اسٹیشنز پر قبضے کر کے بھرے گئے۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کی انتخابی مہم مضبوط تھی اور فارم 45 کے مطابق لوگوں نے ہمیں بلدیاتی الیکشن سے زیادہ ووٹ ڈالے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو بھی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے اور ان کی کامیابی کو ہم تسلیم کرتے ہیں۔حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کم از کم پانچ امیدوار ایسے ہیں جو 100 فیصد جیتے ہوئے ہیں۔ پی ایس 124 سے ہمارا امیدوار 100 فیصد جیتا ہوا ہے لیکن یہاں سے ایم کیو ایم کے امیدوار کو 38000 ووٹ سے جتوایا گیا جبکہ ان کے صرف 9137 ووٹ تھے۔

پی ایس 104 میں ہمارے امیدوار 30378 ووٹ لیکر جیت چکے تھے وہاں بھی ایم کیو ایم امیدوار کے چار گنا ووٹ بڑھا کر 34000 کر دیا گیا۔امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ ایم کیو ایم جائز طریقے سے جیتتے تو اختلاف کے باوجود قبول کرتے لیکن وہ جیتنے کی پوزیشن تو دور الیکشن لڑنے کی بھی اہل نہیں۔ اب تو ان کا کونسلر بھی الیکشن نہیں جیت سکتا۔ میرا نہیں خیال کہ ایم کیو ایم کوئی ایک سیٹ جیتی ہو جب کہانہوں نے کہا کہ کراچی میں سیٹوں کی بندر بانٹ کی گئی اور جس طرح بٹوارا کیا گیا یہ بدترین سیاہی ہے جو الیکشن کمیشن کی جانب سے لگائی گئی ہے۔ الیکشن نتائج میں جو کچھ کیا گیا اس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں یہ زبردستی کا مینڈیٹ ہے، مطالبہ کرتا ہوں کہ کراچی کے نتائج کو کالعدم قرار دیا جائے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ انتخابی دھاندلی کا نوٹس لیں۔ ہم جمہوری طریقے سے پاکستانیوں کا مقدمہ لڑیں گے۔ آج ہم نے پٹیشن فائل کی، کل بھی کریں گے۔ سوشل میڈیا کے زمانے میں جعلی مینڈیٹ مسلط نہیں کر سکتے۔واضح رہے کہ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 129 کراچی سینٹرل سے جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمن 26926 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے معاذ مقدم 20608 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…