جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سینیٹ میں فوج، سیکیورٹی افسران کیخلاف پروپیگنڈے پر سزا کی قرارداد اتفاق رائے سے منظور

datetime 1  جنوری‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)سینٹ نے پاک فوج اور سیکیورٹی افسران کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے پر سزا کی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کرلی ۔ پیر کوقرارداد پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرا مند خان تنگی نے پیش کی، قرارداد میں موقف اپنایا گیا کہ پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کرنے والے کو سخت سزا دی جائے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاک فوج کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

اس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے مسلح افواج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی عظیم قربانیوں کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ بالخصوص مخالف ہمسایہ ملک کے پیش نظر مضبوط فوج اور دیگر سیکیورٹی ادارے ملک کے دفاع کے لیے ناگزیر ہیں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ وہ افواج پاکستان اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے خلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے میں ملوث پائے جانے والوں کو عوامی عہدے سے 10 سال کی نااہلی سمیت سخت سزا دینے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔

سینیٹ بہرا مند تنگی نے لاپتہ افراد کا معاملہ بھی سینیٹ میں اٹھایا، انہوںنے کہاکہ آج اینکر صاحبان اور لیڈر صاحبان بھی لاپتہ افراد کی بات کرتے ہیں، آج بلوچستان میں کروڑوں لوگ ہیں، ان میں طلبہ ہیں سیاستدان ہیں ملازمین ہیں بچے ہیں خواتین ہیں لیکن وہ محب وطن ہیں ان کو تو کسی نے لاپتہ نہیں کیا، ان کو تو کسی نے اغوا نہیں کیا،انہوں نے چیئر مین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا تعلق بھی بلوچستان سے ہے، آپ سیاست کرتے ہیں آپ کے دادا نے سیاست کی مگر آپ کو تو کسی نے اغوا نہیں کیا، آپ ہاس میں تصویر دکھاتے ہیں کہ یہ لاپتہ ہے کیا آپ ان کے بارے میں بتائیں گے وہ کون ہے؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ایوان میں جو افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرتا ہے ان کی زبانوں کو کاٹنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…