پیر‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2025 

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن اس تاثر کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ کچھ جج صاحبان ہر قیمت پر عمران خان کو حکومت میں واپس لانا چاہتے ہیں تاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو چیف جسٹس بننے سے روکا جا سکے،حامد میر

datetime 27  مارچ‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی حامد میر اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ عمران خان کو حکومت سے تو نکال دیا گیا لیکن انہوں نے نکالنے والوں کی زندگی کو عذاب بنا رکھا ہے۔ وہ پچھلے ایک سال سے ان سب کے اعصاب پر ایک ہتھوڑا بن کر برس رہے ہیں جنہوں نے مل جل کر انہیں وزارت عظمیٰ سے فارغ کیا۔

یاد کیجئے! 27 مارچ 2022ء کو عمران خان نے اپنی حکومت بچانے کے لئے اسلام آباد کی پریڈ گرائونڈ میں ایک جلسے سے خطاب کیا اور اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ایک امریکی سازش قرار دیا۔ اس جلسے میں خان صاحب نے ایک خط لہرا کر کہا کہ انہیں حکومت سے نکالنے کا حکم امریکہ سے آیا ہے۔ایک سال کے بعد اسی عمران خان نے26 مارچ کو مینار پاکستان کے سائے تلے ایک جلسے سے خطاب کیا تو امریکی سازش کا ذکر غائب ہو چکا تھا بلکہ ایک امریکی لابنگ فرم امریکی سینیٹرز سے خان صاحب کے حق میں بیانات جاری کروا رہی ہے۔آپ عمران خان کی سیاست میں سے ایک سو ایک یوٹرن تلاش کرکے انہیں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ابن الوقت قرار دے سکتے ہیں لیکن عمران خان کے مخالفین کا صرف ایک یوٹرن ان کی سیاست کے لئے ڈیتھ وارنٹ بن چکا ہے۔ عمران خان کے مخالفین آئین اور جمہوریت کی بالادستی کے علمبردار تھے لیکن وہ آئین اور جمہوریت دونوں سے بھاگ چکے ہیں۔

سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد دونوں صوبوں میں نوے دن کے اندر اندر انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پہلے تو ایک تاریخ کا اعلان کیا اور پھر پنجاب میں انتخابات کو اکتوبر تک ملتوی کردیا۔

اس ناچیز نے 2 مارچ 2023ء کو ’’معاملہ مزید الجھ گیا‘‘ کے عنوان سے اپنے کالم میں واضح طور پر لکھ دیا تھا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن نوے دن میں انتخابات کی بجائے سپریم کورٹ کا حکم نہیں مانیں گے۔ وہی ہوگا جو 2018ء میں نواز شریف کے ساتھ ہوا۔ پہلے نااہلی پھر انتخابات۔ اکتوبر 2023ء تک عمران خان نااہل ہوگئے تو انتخابات بھی ہو جائیں گے بصورت دیگر اکتوبر میں بھی انتخابات مشکل ہیں۔

عمران خان کی تمام تر امیدوں کا مرکز سپریم کورٹ ہے۔ انہیں یقین ہے کہ جس سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل کیا وہ انہیں نااہلی سے بھی بچائے گا اور حکومت کو نوے دن میں انتخابات کرانے پر بھی مجبور کردے گا۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن اس تاثر کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ کچھ جج صاحبان ہر قیمت پر عمران خان کو حکومت میں واپس لانا چاہتے ہیں تاکہ کسی طریقے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو چیف جسٹس آف پاکستان بننے سے روکا جا سکے۔ ان جج صاحبان کی لڑائی آئین کی بالادستی کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ ذاتی لڑائیوں میں الجھے ہوئے ہیں ورنہ آئین کی خلاف ورزی تو بلوچستان میں روزانہ ہوتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…