منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی بڑی کامیابی

datetime 30  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر ایک اہم سفارتی اور قانونی کامیابی حاصل ہوئی ہے،

جسے بھارت نے پہلگام آبشار آپریشن کے بعد یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ثالثی عدالت کی جانب سے جاری ہونے والا پروسیجرل آرڈر نمبر 19 پاکستان کے مؤقف کی مضبوط تائید کرتا ہے۔ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے قانونی دائرہ اختیار پر قائم ہے اور پاکستان کی جانب سے پیش کردہ شواہد کو کارروائی کا حصہ بناتے ہوئے ان پر عملدرآمد کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی ایک فریق کی غیر حاضری یا عدم تعاون ثالثی کے عمل کو روکنے کا سبب نہیں بن سکتی۔عدالتی حکم میں اس امر کی بھی تصدیق کی گئی کہ سیاسی نوعیت کے بیانات یا یکطرفہ اعلانات معاہدے کے طے شدہ طریقہ کار کو معطل نہیں کر سکتے۔ ٹریبونل کے مطابق تعمیل کا جائزہ زمینی حقائق اور عملی شواہد کی بنیاد پر لیا جائے گا، نہ کہ مفروضوں یا غیر حقیقی منصوبہ بندی پر۔ عدالت نے کارروائی کے دوران طے شدہ ٹائم لائنز پر بھارت کی جانب سے جواب نہ دینے کو باضابطہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔

ایک اور نمایاں پیش رفت میں ثالثی عدالت نے بھارت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی آپریشنل لاگ بکس اور متعلقہ دستاویزات مقررہ مدت میں جمع کرائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدم تعاون سندھ طاس معاہدے کے تحت عائد ذمہ داریوں کو ختم نہیں کرتا۔ شفافیت کو لازم قرار دیتے ہوئے ٹریبونل نے تمام مطلوبہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا اور خبردار کیا کہ اگر بھارت نے عدالتی احکامات کی تعمیل نہ کی تو اس کے منفی قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔عدالت نے مزید کہا کہ اگر کسی فریق کی جانب سے تعاون نہ بھی کیا جائے تب بھی دستیاب شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنیں گے، اور رازداری کو معاہدے کے فیصلوں میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔ ٹریبونل کے مطابق سندھ طاس معاہدے میں طے شدہ حقوق اور ذمہ داریاں کسی بھی تکنیکی یا طریقہ کار کے اعتراض سے بالاتر ہیں۔

ثالثی ٹریبونل نے عبوری ریلیف سے متعلق اپنے واحد اور خصوصی اختیار کی بھی تصدیق کی اور واضح کیا کہ پاکستان کو کسی ممکنہ نقصان یا کشیدگی سے بچاؤ کے لیے معاہدے کے تحت فوری ریلیف حاصل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کی قانونی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے، جبکہ بھارت کی عدم تعمیل اور عدم تعاون عالمی سطح پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ ثالثی ٹریبونل کے مطابق پاکستان کی معاہدے پر مبنی حکمت عملی نے سندھ طاس معاہدے کے تسلسل اور استحکام کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…