جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ڈالر کی نئی اڑان سے مہنگائی بڑھے گی، مفتاح اسماعیل نے ملازمین کی بنیادی تنخواہ بڑھانے کا مشورہ دے دیا

datetime 28  جنوری‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور (این این آئی)مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آج وہ ایوان مفلوج ہے جہاں پر عوام کی بات ہونی چاہیے،موجودہ سیاسی نظام ملکی مسائل کے حل میں ناکام ہے،ہمیں کسی عہدے کا لاچ ہے نہ ہی نئی جماعت بنا رہے ہیں، اس نظام کو جگانا چاہتے ہیں۔ ہفتہ کو یہاں سمینار سے خطاب کرتے ہوئے

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ملک کی سیاست نفرت اور دشمنی میں تبدیل ہو چکی ہے، موجودہ سیاسی نظام ملکی مسائل کے حل میں ناکام ہے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کو 5 سال ہوگئے مگر آج تک ان کے مسائل حل نہیں ہوئے،ہمیں کسی عہدے کا لاچ ہے نہ ہی نئی جماعت بنا رہے ہیں۔ ہم اس نظام کو جگانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پارلیمان منتخب نمائندگان کا فورم ہے لیکن وہاں مسائل کی بات نہیں ہوتی،بدقسمتی ہے کہ ملکی معیشت بدحالی کو پہنچ چکی۔ انہوں نے کہاکہ آج کوئی ایسا فورم نہیں جہاں ہم مسائل کا حل نکال سکیں،سیاسی سسٹم میں مسائل حل کرنے کی طاقت نظر نہیں آتی۔انہوں نے کہاکہ ملک جن مسائل کا شکار ہے میں بھی ان ذمہ داروں میں ہوں،سب نے حکومتیں کیں اور اپوزیشن میں رہے،ملک کو 75 سال ہو چکے،ہمیں پھر بنیادی باتوں پر آنا پڑے گا، نظام بنانا پڑے گا اور حکومت کو ڈیلیور کرنا پڑے گا۔مسلم لیگ (ن)کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ڈالر کی نئی اڑان سے مہنگائی میں شدید اضافہ ہوگا، بنیادی تنخواہ کو 25 ہزار سے 35 ہزار روپے تک بڑھانا ہوگا۔ری ایمرجنگ پاکستان سیمینار سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ پاکستان جیسی اسلامی ریاست میں 86 فیصد بچوں کو خوراک نہیں مل رہی، جن لوگوں کے پاس وسائل نہیں ہیں وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایک پاکستان بنانے کیلئے تصور کردہ پاکستان کی تعبیر کرنا ہو گی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مشکلات سے دوچار ہے،

بڑی محنت سے پاکستان کو دیوالیہ سے واپس لائے تھے پھر ملک اسی طرف جا رہا ہے۔سیمینار سے خطاب میں مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد حکمران مخالف جماعتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، آج سیاسی گفتگو کا معیار یہ ہے کہ ہم دست و گریباں ہیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر کی صورتحال سب کے سامنے ہے، سوات میں جب لوگ احتجاج کرنے لگے تو پتہ چلا کہ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے، اس صورتحال پر ملک کا پارلیمان اور سیاسی جماعتیں خاموش ہیں۔

سابق سینیٹر نے کہا کہ رپورٹ دیکھ رہا تھا خیبرپختونخوا میں 300 سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے، کئی سو محافظ شہید ہوچکے ہیں لیکن مجال ہے یہ ہماری گفتگو کا حصہ ہو۔انہوں نے کہاکہ اس صوبے نے بہت بڑی قیمت چکائی ہے، سیکڑوں لوگ شہید ہوئے، اے پی ایس کے بعد بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان پر کتنا عمل ہوا؟ سیاسی جماعتیں اس مسئلہ کو دیکھنے کیلیے تیار نہیں۔سابق سینیٹر لشکری رئیسانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست لاپتہ افراد کو عدالت کے سامنے پیش کرے۔لشکری رئیسانی نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ طلبا تنظیموں پر پابندی ہٹادی جائے۔انہوں نے کہا کہ طلبا تنظیموں کیلئے قانون سازی کی جائے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…