رزق حلال کمائیں، جھوٹ سے دور رہیں، نسلیں سنور جائیں گی، مولانا طارق جمیل

2  ‬‮نومبر‬‮  2022

لاہور (این این آئی) معروف مذہبی سکالر و عالم دین مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ کی حیات طیبہ دنیا بھر کے مسلمان ہی نہیں تمام انسانوں کے لئے زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ ہے اور قرآن پاک کے ارشادات کے مطابق زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ افراد ہمارے پیارے نبی ﷺ کے نقش قدم پر چلنے کی

کوشش کر کے دنیاوی و اخروی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں،بالخصوص میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد کو سیرت النبی ﷺ سے زیادہ مستفید ہونا چاہیے۔پرنسپل پی جی ایم آئی و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ رحمت العالمین ﷺ نے دکھی انسانیت کی خدمت کا عملی درس دیا اور مشکل میں مبتلا افراد کی بلا رنگ و نسل مدد کو شعار بنا کر بتایا کہ کسی ایک انسان کی زندگی بچانا ساری انسانیت کے تحفظ کے برابر ہے۔ان خیالات کا اظہار مولانا طارق جمیل اور پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے پاکستان ہیلتھ سپورٹ سٹا ف ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام لاہور جنرل ہسپتال میں منعقدہ خاتم النبین ﷺ کانفرنس میں کیا جس میں فیکلٹی ممبران،ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹرز،صوبائی صدر رانا پرویز، نرسز، ملازمین، ہیلتھ سپورٹ سٹاف ایسوسی ایشن، پی جی ایم آئی(ایپکا) اور ینگ نرسز ایسو سی ایشن کے عہدیداران سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل نے مزید کہا کہ مادیت پرستی کے موجودہ دور میں انسانی فلاح و بہبود کی بے لوث سرگرمیاں کسی نعمت سے کم نہیں،ہمیں چاہیے کہ اس عارضی زندگی میں ایک دوسرے کی زیادہ سے زیادہ بھلائی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ پیارے نبی ﷺ کی حیات طیبہ کا اصل سبق یہی ہے کہ اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کی فلاح و بہبود کا کام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ رزق حلال کمائیں، جھوٹ سے دور رہیں جس سے ہماری نسلیں سنور جائیں گی۔ میڈیا سے گفتگو میں پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ حق و انصاف پر مشتمل پر امن معاشرے کی تشکیل کیلئے سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کو مشعل راہ بنانا ہو گا۔ دنیا و آخرت میں ترقی و کامیابی کیلئے آپ کی درفشاں سیرت ہم سب کیلئے دائمی ہدایت کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبہ سے وابستہ تمام افراد کو حضور کی تعلیمات، ان کی رہنمائی، حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہیں۔ پروفیسر الفرید کا کہنا تھا کہ مسیحائی کے پیسے سے منسلک لوگ بلا امتیاز، رنگ و نسل و مذہب اور تمام تعصبات سے بالا تر ہو کر دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں، مریضوں کی خدمت و دل جوئی کریں، لواحقین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آکر نیکیاں سمیٹیں۔

انہوں نے کہاکہ لاہور جنرل ہسپتال اور پی جی ایم آئی میں ہونے والی سرگرمیاں لائق تحسین ہیں جبکہ ہیلتھ سپورٹ سٹاف ایسوسی ایشن نے سیرت النبی کے حوالے سے اس نشست کا انعقاد کر کے بلا شبہ ایک اور احسن اقدام اٹھایا ہے جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پاکستان ہیلتھ سپورٹ سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر رانا پرویز نے کہا کہ میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہونے کے ناطے ہم پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایسوسی ایشن اپنی روایات کو مزید مضبوط بنائے گی اور ایسی نشستوں کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔اس موقع پر محفل نعت اور درود و سلام کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں شرکاء نے آقا ئے دو جہان حضرت محمد ﷺ کو ہدیہ عقیدت پیش کیا۔مولانا طارق جمیل نے لاہور جنرل ہسپتال میں قائم گرافی لان کا بھی افتتاح کیا اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی، سلامتی، کشمیر سمیت تمام مظلوم مسلمانوں کی آذادی اور ظلم سے نجات کیلئے دعا کرائی۔ پرنسپل نے مولانا طارق جمیل کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر فیاض رانجھا،ہیلتھ سپورٹ ایسو سی ایشن کے عہدیداران سجاد خان، امانت علی خان، میاں خالد محمود، غلام محی الدین، میڈیم تسنیم خان، حاجی عرفان گڈو، خالد گوندل، ابرار حسین، عامر جاوید و دیگر موجود تھے۔

موضوعات:



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…