راجہ فاروق حیدر پر حملے کے خلاف دوسرے روز بھی احتجاج جاری، فہیم ربانی کی وزارت سے برطرفی، اسمبلی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ

  منگل‬‮ 4 اکتوبر‬‮ 2022  |  16:31

مظفرآباد(نیوز ڈیسک)سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان پر قانون ساز اسمبلی میں حکومتی وزیر کے حملہ آور ہونے کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی اپیل پر منگل کے روز آزادکشمیر بھر میں احتجاجی مظاہرے ،سڑکیں بند جلوس اور اجتماعات کا انعقاد ،سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ دارلحکومت مظفرآباد کے آزادی چوک میں مرکزی ایوان صحافت کے سامنے منعقد ہوا

جہاں متحدہ اپوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں سمیت سابق وزیراعظم آزادکشمیر کے پیروکاروں نے ٹائر جلا کر مرکزی شاہرات ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیں بڑی تعداد میں کارکن مظفرآباد شہر اور مضافات سے احتجاج میں شرکت کے لیے آے ۔متحدہ اپوزیشن کے فیصلے کے مطابق اسمبلی میں ہونے والے واقعے کے خلاف آج پھر اسمبلی گیٹ کے سامنے مظاہرہ کیا جائیگا ،منگل کے روز ہونے والے مرکزی احتجاجی اجتماع میں متحدہ اپوزیشن کی جملہ قیادت نے بھی شرکت کی ۔سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے جب مرکزی ایوان صحافت کے سامنے پہنچے تو کارکنوں نے پرجوش اور جذباتی نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا بعد ازاں آزادی چوک میں مظاہرین سے متحدہ اپوزیشن کی مرکزی قیادت راجہ فاروق حیدر خان سابق وزیراعظم آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری لطیف اکبر پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین ممبران اسمبلی میاں عبد الوحید ،باذل نقوی ،قاسم مجید ،عامر الطاف ،کرنل وقار نور ،احمد رضا قادری ،نثارہ عباسی ،سابق وزیر ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی ،سید مرتضی گیلانی سمیت درجنوں مقررین نے خطاب کیا

راجہ فاروق حیدر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادکشمیر میں سیاسی کارکنان کی عزت کے لیے اکٹھے ہوے ہیں حکومت کو آگاہ کر دیا ہے کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں حکومتی وزیر کا طرز عمل بذات خود اس بات کا گواہ ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے اندر اس طرح کے واقعات کی کوئی مثال نہیں مرحوم اختر ربانی انتہائی وضع دار شخصیت کے حامل تھے

میں ان کی دونوں شادیوں میں شرکت کرنے والا اس علاقے کا واحد فرد ہوں واقعہ اتفاقی نہیں طے شدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جس کے مذموم مقاصد ہوسکتے ہیں سردار تنویر الیاس میری تعریف کرتے ہیں ریاست کے وزیراعظم کے طورپر ان کا احترام ہے مگر انہیں اپنی اداؤں اور اپنے ارد گرد کے

ماحول پر نظر رکھنی چاہیے وزیر قانون سمیت کچھ لوگ اسمبلی کے اندر اور باہر خانہ جنگی چاہتے ہیں احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے جو قانون کے دائرے کے اندر جاری رہیگا میری ذات کا معاملہ نہیں اب فیصلہ متحدہ اپوزیشن کریگی تشد د واور عدم برداشت کا راستہ روک کر

آئندہ نسلوں کو محفوظ بنانا ضروری ہے قائد حزب اختلاف چوہدری لطیف اکبر نے اپنے خطاب میں احتجاجی مظاہرے میں بھرپور شرکت پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا کہ حکومت کے جانے کا وقت آن پہنچا ہے بہت جلد ا س مسلط شدہ ٹولے سے عوام کو نجات دلائیں گے

راجہ فاروق حیدر پر حملے کے بعد سینئر اراکین پارلیمنٹ جو دونوںا طراف سے ہیں سب نے واقعے کی مذمت کی اور اسے پارلیمانی روایات اور ہماری معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیا ہے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوے پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری یاسین نے کہا کہ

جمہوری معاشروں میں اختلاف راے کا احترام کیا جاتا ہے تحریک انصاف نے پاکستان میں بدتمیزی اور بد تہذیبی کا کلچر متعارف کروایا اور اب ا س کی ایک جھلک آزادکشمیر اسمبلی میں بھی دیکھی گئی ہے انہوں نے قائد حزب اختلاف کے خلاف وزیراعظم آزادکشمیر کے توہین آمیز الفاظ کی مذمت کی اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان پر وزیر قانون کے حملے کو دہشت گردی قرار دیا ۔



زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎