جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب اوقاف نے مساجد،امام بارگاہوں کے لئے ترمیم شدہ کورونا ایس اوپیزجاری کردیئے

datetime 11  اپریل‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) محکمہ اوقاف پنجاب نے رمضان المبارک میں مساجد اورامام بارگاہوں کے لئے ترمیم شدہ کوروناایس اوپیزجاری کردیئے ہیں،60 سال سے زائدعمرکے بزرگوں کومساجدمیں نہ آنے کا مشورہ ، مساجد اورامام بارگاہوں میں اجتماعی سحری اورافطاری پربھی پابندی ہوگی۔اعتکاف کے دوران معتکفین میں 6 فٹ کا فاصلہ رکھنا ہوگا،احتیاطی تدابیرپرعمل درآمدنہ ہونے

اورکوروناکیسزکی تعدادبڑھنے کی صورت میں مساجد کے لئے ضابطہ اخلاق پرنظرثانی کی جائیگی۔20 نکاتی ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ تراویح سمیت نمازپنجگانہ کی ادائیگی کے دوران مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین یا دریاں نہیں بچھائی جائیں گی ، صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی ،اگرکچا فرش ہو تو صاف چٹائی بچھائی جا سکتی ہے ، جو لوگ گھر سے اپنی جائے نماز لا کر اس پر نماز پڑھنا چاہیں ، وہ ایسا ضرور کریں۔ نماز سے پیشتر اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے ،ضابطہ اخلاق کے مطابق جن مساجد اور امام بارگاہوں میں صحن موجود ہوں وہاں ہال کی بجائے صحن میں نماز پڑھائی جائے تو زیادہ بہتر ہے،60 سال سے زیادہ عمر کے لوگ ، نابالغ بچے اور کھانسی ، نزلہ ، زکام وغیرہ کے مریض مساجد اور امام بارگاہوں میں نہ آئیں،مسجد اور امام بارگاہ کے احاطہ کے اندر نماز اور تراویح کا اہتمام کیا جائے ۔ سڑک اور فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے اجتناب کیا جائے۔مسجد اور امام بارگاہ کے فرش کو صاف کرنے کیلئے پانی میں کلورین کا محلول بنا کر دھویا جائے ،اسی محلول کو استعمال کر کے چٹائی کے اوپر نماز سے پہلے چھڑکائو بھی کر لیا جائے ۔مسجد اور امامبارگاہ میں صف بندی کا اہتمام اس انداز سے کیا جائے کہ نمازیوں کے درمیان 3 فٹ کا فاصلہ رہے ۔مساجد اور امام بارگاہ ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جو احتیاطی تدابیر پر عمل یقینی بنا سکے۔مسجد اور امام بارگاہ کے منتظمین اگر فرش پر نمازیوں کے کھڑے ہونے کیلئے صحیح فاصلوں کے مطابق نشان لگا دیں تو نمازیوں کی اقامت میں آسانی ہو گی۔وضو گھر سے کر کے مسجد اور امام بارگاہ تشریف لائیں۔ صابن سے بیس سیکنڈ ہاتھ دھو کر آئیں۔لازم ہے کہ ماسک پہن کر مسجد اور امام بارگاہ میں تشریف لائیں اور کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں اور نہ بغل گیر ہوں،اپنے چہرے کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں ، گھر واپسی پر ہاتھ دھو کر یہ کر سکتے ہیں، موجودہ صورتحال میں اعتکاف کیلئے ہر دو معتکفین کے درمیان فاصلہ 6 فٹ ہو گا اور  تمام ایس اوپیزکو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔مسجد اور امام بارگاہ میں افطار اور سحر کا اجتماعی انتظام نہ کیا جائے ،مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ ، آئمہ اور خطیب ضلعی و صوبائی حکومتوں اور پولیس سے رابطہ اور تعاون رکھیں۔ مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ مشروط اجازت دی جا رہی ہے ، اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا ہے یا متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں علما و مشائخ کے ساتھ مشاورت سے نظر ثانی کر سکتی ہے ۔دوسری وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی حافظ طاہرمحموداشرفی نے کہا ہے 60 سال سے زائدعمرکے بزرگ بھی اگرصحت مندہیں تومسجد میں آسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…