جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

تین لاکھ ٹن چینی اور کاٹن انڈیا سے خریدنے کا معاملہ،سمری جس وزارت کی جانب سے بھجوائی گئی وزیراعظم اس کے خود انچارج ہیں،سمری منظور کرنے کے بعد مسترد کیوں کی گئی؟ تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 3  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سیکرٹری جنرل، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بھارت سے تجارت معاملے پر کوئی کہہ رہا ہے وزیر اعظم کو پتہ تھا کوئی کہہ رہا ہے وزیر اعظم کو معلوم نہیں تھا، وزیر اعظم نے مودی کو خط لکھا کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے،وزیر اعظم نے خط میں یو این

قراردادوں کا ذکر تک نہیں کیا،کشمیریوں کے ساتھ پی ڈی ایم کھڑی ہے، کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوانے قراردادوں کے مطابق ہی ملنا چاہیے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ حیرت کی بات ہے کہ کس قسم کے حکمران ملک پر مسلط ہیں،ایک سمری وزارت کی جانب سے بھجوائی گئی جس کے وزیر اعظم خود انچارج ہیں،سمری میں تین لاکھ ٹن چینی اور کاٹن انڈیا سے خریدنے کی اجازت دی جائے،رزاق داؤد نے اس سمری کو ای سی سی میں پیش کیا،سوال ہوا کہ وزیر اعظم نے منظوری دی ہے،تو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی منظوری سے یہ سمری آئی ہے،ای سی سی نے سمری کی منظوری دی،عجلت میں یہ سب کیا گیا اور ایک وزیر کو کہا گیا کہ آپ قوم کو آگاہ کریں،ایک وزیر بولے یہ نہ کریں لوگ اشتعال میں ہیں،جس کے بعد وزیر اعظم نے اس سمری کو مسترد کیا۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ یہ تماشا لگا ہوا ہے،ایک لمبی ایڈوائزر ہے جو تماشا لگائے ہوئے ہیں،کوئی کہہ رہا ہے وزیر اعظم کو پتہ تھا کوئی کہہ رہا ہے وزیر اعظم کو معلوم نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے مودی کو خط لکھا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے،وزیر اعظم نے خط میں یو این قراردادوں کا ذکر تک نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام جو بھارت کا ظلم سہہ رہے ہیں کیا اس کی قیمت دو روپے

کلو چینی کے  پیچھے بچانا ہے کیا یہ چینی کسی اور ملک سے نہیں منگوائی جا سکتی؟۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر یوں کو بتا رہے ہیں کہ وہ خود دیکھیں ان کو کچھ نہیں بتایا جا رہا ہے؟،وزیر اعظم اس کا جواب دے گا،کیا ہم نے یو این کی قراردادوں سے ہٹ گئے ہیں؟،پارلیمنٹ میں آ کر جواب دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…