جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

’سحرسکول سسٹم میں فیس کی عدم ادائیگی پر بچی سے بدسلوکی‘تحریک انصاف کی رہنما دعا بھٹو متاثرہ بچی کے گھر پہنچ گئیں

datetime 23  مارچ‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن)ناظم آباد کے سحراسکولنگ سسٹم  میں فیس ادا نہ کرنے پر بچی کے ساتھ بدسلوکی کے واقعے پر پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی دعا بھٹو بچی کے والدین کے ہمراہ رضویہ تھانے پہنچ گئی اوراسکول انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی۔تفصیلات کے مطابق ناظم آباد نمبرایک میں واقع سحراسکولنگ سسٹم کے پرنسپل طفیل ودیگر اسٹاف کی جانب سے

شہری عادل انصاری کی بیٹی عبیرزہرہ جوکہ مذکورہ اسکول میں ساتویں جماعت کی طالبہ ہے کو فیس وقت پرنہ دئیے جانے پر اسکول انتظامیہ نے اسکول پہنچنے پر بچی کوکلاس روم کے باہر کھڑا کردیا اورچھٹی سے ایک گھنٹے پہلے بچی کوخالی کمرے میں بند کرکے بچی کا اسکول بیگ ضبط کرلیا اور والدین کے پوچھے جانے پر دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا ،واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاکستان تحریک انصاف کی رکن سندھ اسمبلی دعابھٹوبچی اور والدین کے ہمراہ رضویہ تھانے پہنچ گئی اور اسکول پرنسپل طفیل ودیگر اسٹاف اویس اور علی عباس کے خلاف کارروائی کی درخواست دی جس پر پولیس نے فوری طور پر زیردفعہ 342,506/34کے تحت بچی کے والد عادل انصاری کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 307/2021درج کر لیا ،پولیس کی جانب سے اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی یقین دھانی کروائی گئی،دعا بھٹو بچی کے ورثائ�  سے ملاقات کر کے ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دھانی کروائی اور میڈیا سے بات چیت کرتے رکن سندھ اسمبلی دعا بھٹو نے کہا چند پیسوں کی لالچ میں نجی اسکول انتظامیہ نے بچیوں کے ساتھ زیادتی کی ہے، اسکول انتظامیہ کے خلاف رضویہ تھانے پر ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے، چند پیسوں کی لالچ میں بچیوں کے والدین کو دھمکیاں دی گئیں ، ہم بچیوں کے والد  عادل انصاری کے ساتھ ہیں ہر ممکن مدد کی جائے گی ،بچی کی فیس بھی ہم ادا کریں گے اور اسی اسکول میں ایڈمشن دلوائیں گے، سعید غنی نے سندھ میں اسکولوں کا نظام برباد کر دیا ہے، اگر سرکاری اسکولوں میں پڑھائی کا نظام بہتر ہوتا تو نجی اسکولوں میں جانا نہیں پڑتا، نجی اسکولوں کے مالکان نے اسکولوں کو کاروبار کا ذریعہ بنا رکھا ہے، سرکاری اسکولوں میں گدھے گھوڑے بندھے ہیں اگر نظام بہتر ہوتا تو غریبوں کے بچے بھی معیاری تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…