ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس، عابد ملہی اور شفقت بگا ڈیتھ سیل میں منتقل

datetime 22  مارچ‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی) لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس میں انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ بتایا گیا ہے کہ موٹروے کیس میں سزا پانے والے مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کے وکلاء نے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کے لئے اپیل تیار کر لی ہے اور آئندہ ایک سے دو روز میں اسے ہائیکورٹ میں دائر کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس میں ملوث عابد ملہی اور شفقت بگا کو سزائے موت ، عمر قید ،جائیداد یں ضبط کرنے اور جرمانے کی سزائیںسنائی تھیں۔‎۔واضح رہے گزشتہ روز سانحہ موٹروے کا مرکزی مجرم عدالت میں رو رو کر معافیاں مانگتا رہا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے گزشتہ روز سانحہ موٹروے کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت کی جانب سے دونوں مرکزی مجرمان کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد مرکزی مجرم عابد ملہی عدالت میں جج کے سامنے رو پڑا،مجرم عابد ملہی عدالت میں رو رو کر کہتا رہا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی مجھے معاف کر دیں۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عبدالجبار ڈوگر کے مطابق ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت، یرغمال بنانے کے جرم میں عمر قید اور ڈکیتی کے جرم میں 14 سال کی قید سنائی گئی ہے۔دونوں مجرموں کو جان سے مارنے کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر دفعہ 440 کے تحت پانچ ،پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دفعہ 337 ایف ون میں پچاس،پچاس ہزار روپے اور 337 ایف ٹو میں بھی پچاس،پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ دفعہ 382 بی کے تحت ملزمان کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ ملزمان کو یہ حق بھی دیا گیا ہے کہ وہ سزا کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے موٹر وے کیس کے ملزمان کو کڑی سزائیں ملنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ درندوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے کیلئے تیز ترین ٹرائل پر عدلیہ بھرپور ستائش کی مستحق ہے، ملزمان کی گرفتاری سے لے کر عبرتناک سزا ئیں دلوانے تک پنجاب حکومت نے متحرک کردار ادا کیا ۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ،پولیس ، انٹیلی جنس اداروں،پراسیکیوشن اورجیل حکام کا کردار قابل ستائش ہے، ملزمان کو دفاع کا پورا حق دیا گیا ۔ عدالت نے تمام ثبوتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے سزائیں سنائیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت درندوں کو عبرتناک اور منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی ، ملزمان کی جانب سے اپیلوں کی صورت میں ان کی مخالفت میں بھرپور پیروی کی جائے گی ،حکومت قانونی طریقے سے درندوں کو انجام تک پہنچا کر دوسروں کیلئے عبرت کا نشان بنائے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…