جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

کویت اور قطر میں لیبر کی بڑی گنجائش، کویت کا ویزہ کھل جانے کی نوید سنا دی گئی

datetime 20  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ کویت اور قطر میں لیبر کی بڑی گنجائش پیدا ہونے لگی ہے، کویت کیلئے2011ء سے ویزے پر پابندی ہے، جلد ویزہ کھل جائے گا۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قطر کے دورے پر گیا تھا، میں نے وزیراعظم کا خیرسگالی کا خط قطری امیر کو دے دیا تھا میں حق

نہیں رکھتا کہ خط پڑھوں۔جلد کویت کا بھی دورہ کرنے جارہا ہوں، کویت اور قطر میں لیبر کی بڑی گنجائش پیدا ہونے لگی ہے۔ میرے نوٹس میں نہیں کہ مریم نوازجیل جارہی ہیں، مریم نواز کے کیسز کا مجھے علم نہیں، میں نیب کو ڈیل نہیں کررہا۔ شہبازشریف کے باہر آنے کا بھی مجھے نہیں پتا، سارے فیصلے تو ٹی وی پر آجاتے ہیں۔مریم نواز کہتی ہیں مجھے اجازت اور ٹکٹ پلیٹ میں بھی رکھ کردیں تو باہر نہیں جاؤں گی وہ کہتی ہیں تو ٹھیک ہی کہتی ہوں گی ہمیں ان کی بات بھی ماننی چاہیے لیکن عمران خان ان کو باہر جانے بھی نہیں دے گا۔انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ لینے کے دن مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ میں مالشی وزیر ہوں، کیونکہ میں تیاری کرکے تقریر نہیں کرتا۔ میں کسی سے خفا نہیں، میں پندرویں بار وزارت کررہا ہوں، یہ اللہ کی دین ہے، میں ایک سیٹ کا رکن ہوں، عمران خان کی مہربانی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلی حکومت ہے جس کے بارے میں شک نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کے عظیم ادارے اور فوج جمہوری نظام کو نہیں چلانا چاہتے، ادارے باتیں بھی سن رہے ہیں، یہ بدلی ہوئی فوج ہے فوج جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے، فوج جمہوریت اور حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔فوج کا چیف جب بات کرتا ہے تو وہ بڑی اسکرین کی بات کرتا ہے، انہوں نے ذمہ داری کی بات کی، ہمیں اپنے مسائل کو ٹھیک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے یہ راہ کیوں اختیار کی؟ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ فضل الرحمان کا بیٹا اسمبلی میں موجود ہے، خود انہوں نے صدارتی الیکشن لڑا، اب اسمبلی کو غیرآئینی کہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…