جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

کویت جانے کے خواہش مندہنر مند اور کاروباری افراد کیلئے بڑی خوشخبری، پاکستان اور کویت کے وزراء خارجہ میں اہم ملاقات

datetime 18  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کویت کے وزیر خارجہ اور کابینہ امور کیلئے وزیر مملکت ڈاکٹر احمد ناصر الصباح کا وزارت خارجہ آمد پر پرتپاک خیرمقدم کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کویت کے وزیر خارجہ کے طورپر دوبارہ تقرری پر انہیں مبارک پیش کی، کویت کے وزیر خارجہ کے

ہمراہ ان کی خارجہ امور، صحت، تجارت وکامرس کی وزارتوں کے اعلی حکام بھی تھے۔ اپنی آمد کے بعد وزیرخارجہ احمد ناصر الصباح نے وزارت خارجہ کے صحن میں یادگاری پودا بھی نصب کیا جو وزارت آنے والی شخصیات کی ایک دیرینہ روایت رہی ہے۔ اس کے بعد دونوں وزرا خارجہ نے وفود کی سطح پر بات چیت کی۔ اجلاس میں وزراء خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلووں کا جائزہ لیا جس میں سیاسی، معاشی، دفاعی، تجارتی،سرمایہ کاری اور افرادی قوت کی برآمد کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے عوام میں رابطوں کے فروغ کے لئے طریقہ ہائے کار پر غور کیاگیا۔ کثیرالقومی اداروں خاص طورپر اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی سطح پر قریبی اشتراک عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہاراور اس کا اعادہ کیاگیا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی جیواکنامکس کی طرف تبدیل ہوتی توجہ کا حوالہ دیتے ہوئے امن، ترقی اور رابطے استوار کرنے کی اس کی مرکزیت کو بیان کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کویت کے ساتھ تمام شعبہ جات میں متنوع دوطرفہ تعاون کو مزید تقویت دینے کے پاکستان کے پختہ عزم کو دوہرایا۔ حالیہ (جنوری دوہزار اکیس کو) ہونے والی دوطرفہ سیاسی مشاورت پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے

انہوں نے باہمی طورپر طے پانے والے اہداف کے حصول کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مشترکہ وزارتی کمشن کی (پانچویں) نشست جلد از جلد بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ دوطرفہ تجارت کو تیز کرنے کے لئے پاکستان اور کویت کے درمیان سفری سہولیات کی ضرورت پر زور دیاگیا۔ اس ضمن میں دونوں جانب سے مستقبل

قریب میں عملی اقدامات کے حصول کا عزم کیاگیا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے ہم منصب کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بالخصوص اس کے خصوصی اقتصادی زونز کے معاشی ثمرات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کویت کو دعوت دی کہ پاکستان میں منافع بخش سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے استفادہ

کرے۔ کویت کے وزیر خارجہ نے کویت کی ترقی میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی مثبت کاوشوں کو سراہتے ہوئے کورونا عالمی وبا کے دوران خاص طورپر صحت کے شعبے اور کویت کی فوڈ سکیورٹی سے متعلق حمایت اور تعاون کی فراہمی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے انہیں پاکستان کی

طرف سے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں وزرا خارجہ نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے علاوہ مقبوضہ خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے

کے غیرقانونی اقدامات کے بارے میں خاص طورپر آگاہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازعہ جموں وکشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن وسلامتی کے لئے ناگزیر ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں امن عمل کے لئے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا

اور زور دیا کہ افغان فریقین اجتماعیت کے حامل، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیہ کے حصول کے لئے اس تاریخی موقعے کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے علاقائی امن اور بھائی چارے کے فروغ کے لئے کویتی قیادت کے کردار خاص طورپر عزت مآب امیر کویت کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش

کرتے ہوئے ان کا اعتراف کیا جس سے خلیج تعاون کونسل (جی۔سی۔سی) کے رکن ممالک کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے میں مدد ملی۔ انہوں نے امت مسلمہ میں اتحاد اور یک جہتی کے فروغ کے لئے تمام کوششوں کی پاکستان کی جانب سے حمایت کا اعادہ کیا۔کویت کے وزیر خارجہ پاکستان کا یہ دورہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی دعوت پر کررہے ہیں۔ وہ پاکستانی قیادت سے ملاقات کریں گے جبکہ ان کے ہمراہ تشریف لانے والے اعلی حکام اپنے پاکستانی ہم مناصب سے ملاقاتیں کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…