ہفتہ‬‮ ، 07 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

پی ڈی ایم اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، پیپلز پارٹی یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب اختلاف کے موقف پر ڈٹ گئی  

datetime 16  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (  آن لائن ) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم ) اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ، ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم میں حالیہ عدم اتفاق کے باعث لانگ مارچ موخر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا،پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت کیلئے مہلت مانگ لی ۔ذرائع پی ڈی ایم اجلاس کی اندرونی کہانی بیان کرتے ہوئے  نے بتایا ہے کہ اگر بڑی دو

جماعتوں میں سیاسی رنجش برقرار رہی تو حکومت مخالف تحریک کیسے چلے گی؟  جبکہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آج اپوزیشن کو حتمی فیصلے کے لئے بلالیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق  اسلام آباد میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کااجلاس ہوا جس میں  پیپلز پارٹی نے موقف اپنایا ہے کہ  استعفوں کے معاملے پر  پارٹی سے مزید مشاورت ضروری ہے  اور اس کیلئے  پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت کیلئے مہلت مانگ لی ہے  اس حوالے سے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ  جو بھی موقف پیش کیا ہے وہ سی ای سی فیصلوں کی روشنی میں بیان کیا ہے  اور استعفوں کے معاملے پر پارٹی سے مشاورت بہت ضروری ہے  جبکہ  اجلاس کے دوران  جے یو آئی ، (ن) لیگ سمیت دیگر جماعتوں نے واضح موقف اپنایا ہے کہ استعفوں کے بغیر  لانگ مارچ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا  جب تک استعفے نہیں دینگے  حکومت کو دبائو میں نہیں لایا جاسکتا ۔ ذرائع نے  اجلاس کی  اندرونی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ  پاکستان پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کے درمیان سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر بھی اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں  پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ہ ایوان میں اکثریتی جماعت کو ہی اپوزیشن لیڈر بننے کا حق دیا جائے   اس پر (ن) لیگ اور دیگر جماعتوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور

اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے ایک حتمی مشاورت ہوچکی تو پھر نیا مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے ؟ ذرائع نے بتایا ہے کہ  پیپلز پارٹی کے بعد جے یو آئی نے بھی قائد حزب اختلاف کی نشست پی ڈی ایم اجلاس میں مانگ لی اور اس پر  پی ڈی ایم سربراہ مولانا  فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی پر واضح کیا کہ وہ  صرف اپنی جماعت کو نہیں پوری  اپوزیشن کے موقف کو سامنے رکھے  مولانا فضل الرحمان نے

کہا کہ 9جماعتیں  ایک طرف ہیں اور پیپلز پارٹی صرف ایک طرف ہے  انہوں نے کہا کہ  سینٹ میں قائد حزب اختلاف کی سیٹ جے یو آئی کو ملنی چاہیے  اوراس کے لئے  مولانا عبدالغفور حیدری بہترین امیدوار ہیں  جبکہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے موقف کے برعکس مسلم لیگ (ن) نے بھی واضح موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ  قائد حزب اختلاف  مسلم لیگ (ن) سے ہوگا اور اس پر سب کو متفق ہونا پڑے گا  ذرائع نے بتایا ہے کہ  اس موقف کے حوالے سے  (ن) لیگ نے  قائد حزب اختلاف کیلئے سعدیہ عباسی اور اعظم نزیر تارڑ کا نام بھی دے دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے  یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب اختلاف بنانے کے موقف پر ڈٹ گئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قید بھی نعمت ہوتی ہے


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

سٹوڈنٹ لسٹ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

Mind The Gape

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…